فردوس شمیم نقوی کے گھر کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفیکیشن معطل

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

سندھ ہائیکورٹ کا فردوس شمیم نقوی کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم، عدالتی احکامات کے بغیر کارروائی سے روک دیا

کراچی( 26 دسمبر 2023ء ) سندھ ہائیکورٹ نے کاغذات نامزدگی واپس لینے کے لیے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی پر دباؤ ڈالنے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کے گھر کو سب جیل قرار دینے کا محکمہ داخلہ سندھ کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا۔عدالت عالیہ کے چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے سماعت کرتے ہوئے فردوس شمیم نقوی کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم بھی دے دیا اور ان کے خلاف عدالتی احکامات کے بغیر کارروائی سے روک دیا۔عدالت نے سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کو چار جنوری کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔فردوس شمیم نقوی کی دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مجھ پر کاغذات نامزدگی واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، سب جیل کا نوٹیفکیشن واپس لے کر مجھے سینٹرل جیل بھیجنے کا کہا جا رہا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کے معاملات میں ہم مداخلت نہیں کر سکتے، سب جیل کا نوٹیفکیشن کون جاری کرتا ہے۔درخواست گزار فردوس نقوی کے وکیل جبران ناصر ایڈوکیٹ نے کہا کہ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔ میرے موکل کو ریٹرننگ آفیسر کے سامنے پیش ہونے دیا جائے۔ فردوس شمیم نقوی این اے 236 سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔سندھ ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کی نظر بندی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواست گزار نے موقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ فردوس شمیم نقوی کی عمر 68 سال ہے اور وہ کینسر کی مرض میں مبتلا رہے ہیں۔ انہیں 14 مئی کو گرفتار کر کے سکھر جیل بھیج دیاگیا۔درخواست گزار نے بتایا کہ انہیں ایک ماہ کی نظر بندی مکمل ہونے کے بعد کراچی منتقل کر کے مبینہ ٹان تھانے کے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا ۔درخواست گزار نے کیا نظر بندی کی مدت ایک ماہ کی ہوتی ہے لیکن درخواست گزار کے شوہر 6 ماہ سے جیل میں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!