2018 میں عمران خان کی طرح آج نوازشریف کو وزیراعظم بنانے کا تاثر بن چکا ہے سینئر صحافی حامد میر

2018 میں عمران خان کی طرح آج نوازشریف کو وزیراعظم بنانے کا تاثر بن چکا ہے سینئر صحافی حامد میر

اس وقت ساری ریاستی مشینری نے زور لگا کے عمران خان کو وزیراعظم بنا یا تھا، اب تاثر ہے کہ پورا زور لگا کرنوازشریف کو وزیراعظم بنانا ہے، سائفر فیصلے سے جوڈیشری کو یہ تاثر ختم کرنے میں بڑی مدد ملے گی، سینئر صحافی حامد میر

لاہور (تشکُّر نیوز تازہ ترین ۔ 22 دسمبر 2023ء) سینئر صحافی ، اینکر حامد میر نے کہا ہے کہ 2018 میں عمران خان کو وزیراعظم بنانے کی طرح آج نوازشریف کیلئے وہی تاثر بن چکا ہے، اس وقت ساری ریاستی مشینری نے زور لگا کے عمران خان کو وزیراعظم بنا یا تھا،اب تاثر ہے کہ پورا زور لگا کرنوازشریف کو وزیراعظم بنانا ہے،سائفر فیصلے سے جوڈیشری کو یہ تاثر ختم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے آج کے فیصلوں کو تحریک انصاف کو بڑا فائدہ ہوگا، پاکستان میں اس وقت کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے ، یا پھر کاغذات چھین لیے جاتے ہیں یا پھر ریٹرننگ آفیسر خود کو کمرے میں بند کرلیتا ہے

ی ٹی آئی کا بڑا مورال ڈاؤن تھا، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے خاص طور پر جسٹس اطہرمن اللہ کے نوٹ کو دیکھا جائے تو یہ ان سب کا فائدہ ہے جو آئین قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔
جوڈیشری کو یہ تاثر ختم کرنے میں بڑی مدد ملے گی کہ وہ بالکل بے اختیار نہیں ہے، جس طرح 2018میں فیصلہ کرلیا گیا تھا کہ عمران خان کو وزیراعظم بنانا ہے پھر ساری ریاستی مشینری نے زور لگا کے عمران خان کو وزیراعظم بنا دیا تھا، اب یہ تاثر ہے کہ تمام ریاستی مشینری نے پہلے سے فیصلہ کیا ہوا کہ نوازشریف کو وزیراعظم بنانا ہے اور وہ اس کو بنا کر رہیں گے۔
اگر عمران خان کو ریلیف ملا ہے اور وہ نااہل نہیں ہوئے تو اگر انہیں کل کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں بھی کامیابی حاصل ہوجاتی ہے اور باقی امیدوار بھی کاغذات نامزدگی جمع کرا دیتے ہیں تو اس کا صرف پی ٹی آئی کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ آئین قانون کی بالادستی کے نظریے کو بڑا فائدہ ہوگا۔ حامد میر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کام نہیں تھا کہ صدر اور الیکشن کمیشن کو بلا کر تاریخ پر راضی کریں لیکن سپریم کورٹ نے کام کیا اور بڑا اچھا ہوا ۔
اس لئے اگر اب الیکشن کمیشن بڑا بے اختیار ہے کہ وہ کہتا ہے آئی جی، ڈی سی اسلام آباد کو تبدیل کریں لیکن وہ تبدیل نہیں ہوا اس کا مطلب سپریم کورٹ نوٹس لے سکتی ہے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کو بلے کا نشان ملنے کا فیصلہ ہونا تھا لیکن ابھی تک فیصلہ نہیں آیا اس کا مطلب الیکشن کمیشن کو کسی نہ کسی دباؤ کا سامنا ضرورہے، سپریم کورٹ کو چاہیے وہ الیکشن کمیشن کو دباؤ سے باہر نکالے۔ حامد میر نے کہا کہ آج کی سپریم کورٹ اور 2018 کی سپریم کورٹ میں بڑا فرق ہے اس وقت فیصلے اس طرح نہیں تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!