...

سیاسی استحکام صرف خواب

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ہم نے دو تہائی اکثریت نہیں صرف سادہ اکثریت مانگی تھی جو عوام نے ہمیں نہیں دی، یہ عوام کا فیصلہ ہے جو ہم نے تسلیم کیا ہے اگر میاں نواز شریف کی اپیل پر عوام ہمیں سادہ اکثریت بھی دے دیتے تو مسلم لیگ (ن) حکومت خود بناتی اور دوسری پارٹیوں سے مل کر ملک میں سیاسی استحکام لا سکتی تھی اب ہمیں مجبوری میں حکومت بنانا پڑی ہے۔

میاں شہباز شریف نے سب سے پہلے پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کی آفر دی تھی جس کے بعد بلاول بھٹو نے بھی پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کی پیشکش کی کیونکہ عوام نے انھیں نمایاں نشستیں دی تھیں مگر پی ٹی آئی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی اور نہ دوسروں کے ساتھ مل کر حکومت بنانا چاہتی تھی اس لیے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے مل کر موجودہ پوزیشن پر حکومت بنائی مگر 8 فروری کے بعد ملک میں سیاسی استحکام آیا نہ ہی آنے کی امید ہے کیونکہ عوام نے کسی ایک پارٹی کو سادہ اکثریت نہیں دی اور ہر صوبے کو عوام کا مختلف مینڈیٹ ملا۔ ہر صوبے میں مختلف پارٹی کی حکومت بنی جس کی وجہ سے وفاقی سطح پر سیاسی استحکام نہیں ہے جس کی وجہ عوام کا فیصلہ ہے۔

اگر عوامی سروے کے مطابق (ن) لیگ کو ملک میں سب پارٹیوں پر برتری حاصل تھی تو وہ سروے کہاں گئے اور عوام نے (ن) لیگ کو سادہ اکثریت کیوں نہیں دی اس کی وجہ رانا ثنا اللہ نے خود بتا دی ہے کہ 8 فروری سے قبل عمران خان کو جلدی میں دی جانے والی سزاؤں سے مسلم لیگ (ن) کا نقصان ہوا ہے۔

یہ حقیقت بھی ہے کیونکہ جلدی میں سزاؤں کا ملک میں غلط تاثر گیا اور پی ٹی آئی کو تنہا کافی ووٹ ملا مگر دوسری جماعتوں کو ملنے والا ووٹ پی ٹی آئی سے زیادہ ہے اور رانا ثنا اللہ کے بقول ہمارے بہت سے امیدواروں کو مجھ سمیت ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ ملا اور میں اور بعض دیگر (ن) لیگی امیدوار پی ٹی آئی سے کم مارجن سے ہارے ہیں۔

پی ٹی آئی کی انتخابی مہم مظلومیت کی بنیاد پر اور (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کی مشترکہ مخالفت پر چلائی گئی اور 2018ء سے قبل اور پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی عمران خان کا یہی بیانیہ رہا کہ پی پی اور (ن) لیگ کی قیادت کرپٹ ہے دونوں نے ملک کو لوٹا اور بیرون ملک دولت کے ذریعے جائیدادیں بنائیں میں ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس نکلواؤں گا۔

عوام بھی عمران خان کے الزامات درست سمجھتے تھے اور پی ٹی آئی کے حامیوں کے بقول دونوں پارٹیوں کی مبینہ کرپشن کی تفصیلات انھیں مقتدر حلقوں نے دی تھیں اور بعد میں انھیں حلقوں نے ان کی حکومت ختم کرائی اور ان کے مخالفین کی حکومت بنوائی۔

پی ٹی آئی اور اس کے بانی دو عشروں سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر ملک لوٹنے کے الزامات لگاتے رہے مگر اپنی پونے چار سالہ حکومت میں پی ٹی آئی نے نیب کے ذریعے دونوں پارٹیوں کے تمام اہم رہنماؤں کو گرفتار کروا کر جیلوں میں رکھا ان پر سختیاں کرائیں مگر کسی ایک کے خلاف بھی عدالتوں میں ان کی کرپشن کا ایک ثبوت پیش نہ کیا جاسکا اور تمام رہنما عدالتوں سے ثبوت نہ ملنے پر ضمانت پر رہا ہوگئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کے الزامات غلط اور بے بنیاد تھے مگر پی ٹی آئی کے حامی اب بھی ان الزامات کو درست سمجھتے ہیں۔

8 فروری کے بعد پی ٹی آئی تنہا حکومت بنا ہی نہیں سکتی تھی اگر وہ حکومت بنانا بھی چاہتی تو اسے (ن) لیگ یا پی پی میں سے کسی ایک کے ساتھ اتحاد کرنا پڑتا اور اس سلسلے میں پی پی ، پی ٹی آئی سے ملنا بھی چاہتی تھی مگر پی ٹی آئی اگر پی پی سے اتحاد کر بھی لیتی تو کچھ نہیں ہونا تھا کیونکہ 2017 میں پی ٹی آئی اور پی پی نے (ن) لیگ کی بلوچستان کی حکومت ختم کرائی تھی اور صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوایا تھا اور پی ٹی آئی پی پی کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کو اپنا زیادہ دشمن سمجھتی ہے جو پنجاب میں اس کی بڑی حریف ہے جب کہ سندھ پیپلز پارٹی کا مضبوط گڑھ ہے جہاں پی ٹی آئی کی صرف کراچی میں کچھ سیاسی اہمیت تھی جب کہ اندرون سندھ پی ٹی آئی کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں ہے مگر وہ پھر بھی اندرون سندھ مسلم لیگ (ن) سے زیادہ مقبول ہے۔

پی ٹی آئی کا اصول صرف دکھاؤے کے لیے ہے جس کا مظاہرہ وہ متعدد بار کر چکی ہے جب کہ (ن) لیگ کے مقابلے میں پی ٹی آئی ورکرز بھی پی پی کے زیادہ مخالف نہیں ہیں کیونکہ وہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی سیاسی حریف نہیں ہے۔اگر (ن) لیگ کو سادہ اکثریت مل بھی جاتی تو وہ سیاسی استحکام نہیں لا سکتی تھی اور پی پی اور پی ٹی آئی دونوں مل کر اس کی مضبوط اپوزیشن بن جاتیں اور (ن) لیگ کی حکومت کبھی نہ چلنے دیتیں اور حکومت آج سے زیادہ بے بس ہوتی۔

موجودہ حکومت کی پی پی حقیقی اتحادی نہیں مفاداتی اتحادی ہے اور اہم آئینی عہدے حاصل کر چکی ہے اور ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ 2013 میں آصف زرداری کی صدارتی مدت ختم ہونے والی تھی اور وزیر اعظم نواز شریف نے پہلی بار صدر مملکت کو الوداعی عشائیہ دیا تھا اور پی پی کو ناراض نہیں ہونے دیا تھا مگر پھر بھی آصف زرداری نے 2017 میں بلوچستان میں (ن) لیگی حکومت ختم کرائی تھی اور پی پی اپنے مفاد کے لیے پی ٹی آئی سے ملنے میں قباحت محسوس نہیں کرتی۔ موجودہ صورت حال میں ملک میں سیاسی استحکام ممکن ہی نہیں یہ صرف خواب ہو سکتا ہے عملی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔

3 / 100

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.