امریکی مسلمانوں نے بائیڈن کو دوبارہ صدارتی دوڑ میں شمولیت سے روکنےکیلئے مہم شروع کردی

غزہ کے معصوم فلسطینیوں پر  وحشیانہ بم باری کرنے والے اسرائیل کی حمایت امریکی صدر  بائیڈن کو مہنگی پڑگئی ہے۔

 بائیڈن کو دوبارہ صدارت کی دوڑ میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے امریکا کے مسلمان رہنماؤں نے بائیڈن کو روکو "AbandonBiden” مہم شروع کر دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکی  ریاست منی سوٹا سے شروع ہونے والی بائیڈن مخالف مہم مشی گن، ایری زونا، وسکونسن، پنسلوانیا اور فلوریڈا تک پھیل گئی ہے۔

امریکی مسلمان رہنماؤں نےا س عزم کا اظہار کیا ہےکہ  فلسطینیوں کی نسل کشی میں ساتھ دینے والے بائیڈن کو دوبارہ صدر  بننے سے روکنےکی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

مہم کی قیادت کرنے والے امریکی مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے غزہ میں جنگ بندی رکوانے اور معصوم افراد کو تحفظ فراہم کرنےکے مطالبے کو نہیں مانا اس لیے ہم نے صدر بائیڈن کی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل نہ ہوسکیں۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکا میں قابل ذکر تعداد  رکھنے والی مسلم کمیونٹی کی جانب سے  مخالفت بائیڈن کے دوبارہ صدارتی دوڑ میں شامل ہونے کے ارادوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

مہم شروع کرنے والی تنظیم منی سوٹا کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ڈائریکٹر حسین جیلانی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس صرف دو آپشن نہیں بلکہ متعدد لوگ ہیں۔

امریکی مسلمانوں کا کہنا ہےکہ وہ ٹرمپ کو متبادل کے طور پر نہیں دیکھ رہے نہ وہ ان سے مسلمانوں کے لیےکسی بہتری کی امید رکھتے ہیں، ہم متبادل امیدوار چاہتے ہیں۔

دوسری جانب حماس نے بھی امریکی مسلمانوں سے اپیل کی ہےکہ وہ آئندہ انتخابات کے لیے بائیڈن کو سپورٹ نہ کریں۔

خیال رہےکہ 7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی جارحیت میں 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔

 اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی میں اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد بےگھر  بھی ہو چکے ہیں۔

تاہم  امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے غزہ میں قتل عام رکوانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ امریکا نے اسرائیل کو فوجی امداد بھی فراہم کی ہے اور قرار دیا ہے کہ دفاع اسرائیل کا حق ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!