بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں پانچویں بین الاقوامی میری ٹائم سمپوزیم کا انعقاد

اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز (NIMA) کے زیرِ اہتمام بحریہ یونیورسٹی میں پانچویں بین الاقوامی میری ٹائم سمپوزیم 2026 کا انعقاد کیا گیا۔ سمپوزیم کا موضوع سمندروں میں قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کے بتدریج انحطاط اور بحری سلامتی کے بدلتے ہوئے تناظر پر مرکوز تھا۔

29 اکتوبر کو منعقدہ اس سمپوزیم میں سفارت کاروں، اعلیٰ سول و عسکری حکام، پالیسی سازوں اور ملکی و بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء نے ابھرتے ہوئے بحری چیلنجز، عالمی بحری نظام میں تبدیلیوں اور سمندری وسائل کے تحفظ سے متعلق امور پر گفتگو کی۔

پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے پہلے سیشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جس میں عالمی مشترکہ وسائل کے تناظر میں سمندری نظام کی جغرافیائی و سیاسی جہتوں کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے قواعد پر مبنی بحری نظام، سمندری وسائل کے حصول کے لیے بڑھتی مسابقت، اہم بحری گزرگاہوں، نئی ٹیکنالوجیز، سمندری استحکام اور آزادانہ جہاز رانی پر تبادلۂ خیال کیا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے دوسرے سیشن میں شرکت کی، جس کا موضوع پاکستان کا بحری مستقبل، میری ٹائم سیکیورٹی، سمندری نظم و نسق اور بلیو اکانومی تھا۔ اس سیشن میں بحرِ ہند کی سلامتی، مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، بندرگاہوں کی استعداد اور پاکستان کی سمندری معیشت کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ نے قواعد پر مبنی بحری نظام کے تحفظ، اہم بحری راستوں کی سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے علاقائی استحکام کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سمپوزیم بحری سلامتی اور سمندری نظم و نسق کو مؤثر بنانے کے لیے بامعنی مکالمے اور قابلِ عمل حکمتِ عملیوں کی تشکیل میں مدد دے گا۔

مقررین نے اہم بحری راستوں کو درپیش خطرات، بالخصوص آبنائے ہرمز اور باب المندب کے اطراف کشیدگی، سائبر جنگ، خودکار نظام، نئی ٹیکنالوجیز اور سمندری وسائل کے استحصال پر بھی روشنی ڈالی۔ شرکاء نے بین الاقوامی بحری قانون، علاقائی تعاون اور آزادانہ جہاز رانی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کثیرالقومی بحری تعاون میں پاک بحریہ کے کردار اور علاقائی رابطہ کاری کے مرکز کے طور پر گوادر کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے صدر ریئر ایڈمرل جاوید اقبال (ریٹائرڈ) نے بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی اور تکنیکی خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے بین الاقوامی تعاون مضبوط بنانے، سمندری نظم و نسق بہتر کرنے اور اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) سمیت بحری قانونی ڈھانچوں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی ایئرپورٹس: لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی توسیع کی منظوری، وزیراعظم کی ہدایت

سمپوزیم کے کلیدی مقررین میں سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات (ریٹائرڈ) اور سفیر سردار مسعود خان شامل تھے۔ دیگر مقررین میں سعودی عرب کے ریئر ایڈمرل عبداللہ جابر الزیدی، وائس ایڈمرل داتوک یوسنے بن حاج مختار، ڈاکٹر باربرا سٹیپین، ڈاکٹر مصطفیٰ باسکارا، ریئر ایڈمرل محمد سہیل ارشد، ریئر ایڈمرل شاہد احمد، پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی، ڈاکٹر ظفر نواز جسپال، ڈاکٹر محمد ندیم جاوید اور ایڈووکیٹ احمر شامل تھے۔

سمپوزیم کے اختتام پر بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے، علاقائی استحکام مضبوط بنانے اور محفوظ، پائیدار اور قواعد پر مبنی بحری نظام کے قیام کے لیے عملی حکمتِ عملیوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

5 thoughts on “بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں پانچویں بین الاقوامی میری ٹائم سمپوزیم کا انعقاد”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!