ایران پر حملہ: ٹرمپ نے اسرائیلی انتخابات سے قبل کارروائی کی منظوری نہیں دی

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے انتخابات سے قبل ایران پر ممکنہ حملے (Iran Attack) کے لیے امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری کارروائی کی منظوری نہیں دی، جبکہ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے بھی اس وقت حملے کے ممکنہ نتائج پر خدشات ظاہر کیے۔

اسرائیل میں آج، 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم، امریکی حکام نے فوری حملے کے لیے گرین سگنل نہیں دیا۔

رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے خلاف نئی کارروائی سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور اسرائیلی انتخابات ملتوی ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، امریکی حکام نے ممکنہ کارروائی کے وقت اور اس کے علاقائی اثرات پر بھی غور کیا۔ تاہم، حملے کی منظوری نہ دینے کی وجوہات کے بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات میڈیا رپورٹس اور نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع پر مبنی ہیں۔

نیتن یاہو کے دفتر کا ردعمل

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی ایران کے معاملے پر سیاسی قیادت اور فوج کے درمیان اختلافات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

دوسری جانب، اپوزیشن رہنماؤں نے ان رپورٹس پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات کو انتخابی سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔

اسرائیل میں عام انتخابات آج

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ آج مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہنے کا شیڈول ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ، کنیسٹ، کی 120 نشستوں پر حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ اپوزیشن کی نمایاں شخصیات میں سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ اور سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ شامل ہیں۔ تاہم، کسی بھی اتحاد کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا یقینی نہیں۔

7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اس کے بعد غزہ جنگ سمیت خطے میں بڑھتی کشیدگی نے ان انتخابات کو اہم بنا دیا ہے۔ نیتن یاہو کو اپنی حکومت کی کارکردگی، سکیورٹی معاملات اور اندرونی سیاسی اختلافات پر تنقید کا سامنا ہے۔

ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائی کا معاملہ بھی انتخابی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔ تاہم، اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور وزیر دفاع نے انتخابات سے پہلے حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!