سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت اور سماجی تحفظ سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ڈاکٹرز اور نرسز کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ملک کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید طبی ماہرین تیار کرنے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹرز اور نرسز ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد بیرون ملک ملازمت اختیار کریں تو اسے برین ڈرین نہیں کہا جاسکتا۔ ایسے پیشہ ور افراد بیرون ملک کام کرکے بھی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
سعید غنی نے ان خیالات کا اظہار پیر کو ہورائزن انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز اور سواستو اسکول آف نرسنگ اینڈ ہیلتھ سائنسز کے چھٹے مشترکہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
دونوں اداروں کے 600 نرسنگ گریجویٹس نے کانووکیشن میں اسناد حاصل کیں۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو گولڈ، سلور اور برونز میڈلز بھی دیے گئے۔ تقریب میں گریجویٹس کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
طبی عملے کی کمی جانوں کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے
صوبائی وزیر نے کہا کہ ڈاکٹرز اور نرسز کی کمی صرف مالی نقصان کا باعث نہیں بنتی۔ صحت کے شعبے میں ضرورت کے مطابق عملہ موجود نہ ہو تو انسانی جانیں بھی ضائع ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈاکٹرز اور نرسز تیار کرنے چاہییں۔ اس کے ساتھ ملک ضرورت سے زیادہ طبی ماہرین تیار کرکے عالمی طلب سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
سعید غنی کے مطابق، اس وقت دنیا کے کئی ممالک کو تربیت یافتہ طبی عملے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، بشرطیکہ ملک میں صحت کی ضروریات بھی پوری ہوں۔
بیرون ملک پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
سعید غنی نے بیرون ملک پاکستانیوں کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ملکی معیشت کو بھی سہارا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہیں۔ ان کے بقول، تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور نرسز بھی بیرون ملک خدمات انجام دے کر پاکستان کے لیے معاشی فوائد پیدا کرسکتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے ان اداروں کی سرپرستی پر بھی زور دیا جو ڈاکٹرز اور نرسز تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں کی مدد سے ملک کی ضروریات پوری کرنے اور عالمی سطح پر افرادی قوت فراہم کرنے کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔
نرسنگ گریجویٹس کو انسانیت کی خدمت کا پیغام
سعید غنی نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طبی شعبے سے وابستگی صرف روزگار کا ذریعہ نہیں۔ اس میں انسانیت کی خدمت اور مریضوں کے ساتھ ہمدردی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اور نرسز کو اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے ادا کرنی چاہییں۔ مریضوں کی خدمت اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ معاشرے میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔
صوبائی وزیر نے امید ظاہر کی کہ گریجویٹس اپنی عملی زندگی میں کامیاب ہوں گے اور ملک و انسانیت کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک جانے والے نوجوان بھی وہاں رہتے ہوئے پاکستان کا نام روشن کرسکتے ہیں۔
آخر میں سعید غنی نے دونوں تعلیمی اداروں کی ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ ادارے مزید ترقی کریں اور مستقبل میں زیادہ طبی ماہرین تیار کرنے کے قابل ہوں۔