بیگم نصرت بھٹو: بحالی جمہوریت کی جدوجہد میں ان کا کردار نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، سعید غنی

وزیر محنت و افرادی قوت سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے صدر سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی تاریخ بیگم نصرت بھٹو کی جدوجہد کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ ان کے مطابق جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے خلاف ان کی سیاسی جدوجہد اہمیت رکھتی ہے۔

سعید غنی نے ان خیالات کا اظہار جمعے کو کراچی میں پیپلز پارٹی کے سیکریٹریٹ میں کیا۔ وہاں بیگم نصرت بھٹو کی 15ویں برسی کے سلسلے میں قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کی گئی۔ بعد ازاں سعید غنی نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کی جدوجہد کے ساتھ بیگم نصرت بھٹو کی جمہوریت کے لیے کوششوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔

تقریب میں پیپلز پارٹی ضلع شرقی کے صدر اقبال ساند، سندھ حکومت کی ترجمان تحسین عابدی، سرور خان غازی، ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی، محمد آصف خان اور فروخ تنولی شریک ہوئے۔ لیویز ونگ کے عہدے داروں، منتخب بلدیاتی نمائندوں اور پارٹی کارکنوں نے بھی شرکت کی۔

ضیا الحق کے دور میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک

سعید غنی نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد بیگم نصرت بھٹو نے جنرل ضیا الحق کے خلاف تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول، انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیگم نصرت بھٹو نے ان جماعتوں کو بھی متحد کیا جو ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت کرتی رہی تھیں۔

سعید غنی کے مطابق، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن اس تحریک میں بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ شامل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایم آر ڈی کا قیام ملکی سیاسی تاریخ کا اہم واقعہ تھا۔

ذاتی صدمات اور پارٹی کارکنوں سے تعلق

سعید غنی نے بیگم نصرت بھٹو سے اپنی ایک ملاقات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 2001 میں دبئی گئے تو انہوں نے پورا دن بیگم نصرت بھٹو کے گھر گزارا۔ اس وقت وہ شدید علیل تھیں۔

ان کے مطابق، میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل نے بیگم نصرت بھٹو کو گہرا صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے اپنے شوہر ذوالفقار علی بھٹو اور بیٹوں شاہنواز بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کی اموات کے صدمات بھی برداشت کیے۔

سعید غنی نے بیگم نصرت بھٹو کی سیاسی سرگرمیوں سے متعلق ایک واقعہ بیان کیا۔ ان کے مطابق، وہ لاہور میں پارٹی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک پرانی گاڑی میں روانہ ہوئیں۔ بعد ازاں کراچی کے کینٹ اسٹیشن سے ٹرین کے ذریعے لاہور پہنچیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیگم نصرت بھٹو پارٹی کارکنوں اور ان کے بچوں کا بھی خیال رکھتی تھیں۔

سعید غنی نے کہا کہ بیگم نصرت بھٹو نے جمہوریت کی بحالی کے لیے سیاسی جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، ان کی سیاسی جدوجہد اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!