...

میر رضا علی قتل کیس: عدالتی کمیشن کی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کی سفارش

میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کی سفارش کردی ہے۔ مجوزہ ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کریں گے۔ اس میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، پاکستان رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سینئر نمائندے شامل ہوں گے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے 15 اکتوبر 2026 کو رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو پیش کی۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق رپورٹ کے خلاصے میں پولیس تفتیش کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ شواہد متاثر ہونے اور عوامی اعتماد ختم ہونے سے کیس کی شفاف تحقیقات متاثر ہوئی ہیں۔

میر رضا علی کی موت کیسے ہوئی؟

میر رضا علی انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے فارغ التحصیل تھے۔ وہ وافلکس (Wafflix) کے نام سے اپنا کاروبار چلاتے تھے۔ وہ 28 جولائی 2026 کی علی الصبح کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنی رہائش گاہ سے لاپتا ہوگئے۔

اہل خانہ نے اسی روز فیروزآباد تھانے میں اغوا کا مقدمہ درج کرایا۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت درج ہوا۔ اگلی صبح ان کی لاش گلستانِ جوہر تھانے کی حدود سے ملی۔ جناح اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد اسی روز تدفین کردی گئی۔

پولیس نے ابتدا میں موت کو خودکشی قرار دیا۔ تاہم، اہل خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاش پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف

پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے بعد 8 اگست کو لاش قبر سے نکالی گئی۔ اس کے بعد دوبارہ طبی معائنہ کیا گیا۔ اگست کے آخر میں جاری ہونے والی حتمی سرکاری رپورٹ نے موت کی وجہ واضح کردی۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی موت پشت سے داخل ہونے والی گولی کے زخم کے باعث ہوئی۔ اس نتیجے نے خودکشی کے ابتدائی مؤقف کو مسترد کردیا۔ پولیس نے بعد میں مقدمے میں قتل اور شواہد ضائع کرنے کی دفعات بھی شامل کرلیں۔

عدالتی کمیشن نے بھی خودکشی کے امکان کو مسترد کیا۔ اس کے مطابق گولی کا رخ، زخم کا مقام، خون کی عدم موجودگی اور لاش کی حالت اس مفروضے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ رپورٹ میں جسم پر تیزاب سے جلنے کے نشانات اور خون میں بے ہوشی کی دوا کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا۔

پولیس تفتیش پر عدالتی کمیشن کی تنقید

کمیشن نے پولیس کی تحقیقات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس سچائی سامنے لانے کی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔

تفتیش کاروں نے چند غیر مصدقہ ٹیکسٹ پیغامات اور منتخب ویڈیو فوٹیج پر انحصار کیا۔ یہ فوٹیج ایس ایچ او عدیل افضل نے حاصل کی تھی۔ کمیشن نے پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر انحصار کو بھی قابلِ اعتراض قرار دیا۔ اس رپورٹ میں خودکشی کا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس نے متبادل امکانات کی تحقیقات کرنے کے بجائے اپنے ابتدائی مؤقف کا دفاع جاری رکھا۔ متعدد مجاز اور غیر مجاز اہلکاروں نے شواہد سنبھالے، مگر ان کا مناسب ریکارڈ مرتب نہیں کیا گیا۔ اس طرزِ عمل نے شواہد کی حفاظت اور تفتیش کی شفافیت پر سوالات اٹھائے۔

کمیشن نے ابتدائی تحقیقات میں ممکنہ پردہ پوشی کے خدشے کو بھی مسترد نہیں کیا۔ تاہم، اس نے واضح کیا کہ دستیاب اختیارات کے تحت اس بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں تھا۔

میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر تنازع

6 اگست کو عدالتی حکم کے تحت کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کی سربراہی میں آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ تاہم، سندھ محکمہ صحت نے 7 اگست کی علی الصبح اس کی جگہ پانچ رکنی بورڈ قائم کردیا۔

میر رضا علی کے اہل خانہ نے نئے بورڈ کو مسترد کردیا۔ اس فیصلے کے باعث لاش قبر سے نکالنے کا عمل مؤخر ہوگیا۔ عوامی دباؤ اور قانونی نوٹس کے بعد حکومت نے 8 اگست کو اصل آٹھ رکنی بورڈ بحال کردیا۔ اسی روز صبح 11 بجے لاش قبر سے نکالنے کا عمل مکمل ہوا۔

عدالتی کمیشن نے بورڈ کی تبدیلی کو غیر معمولی اور قانونی خامیوں پر مبنی اقدام قرار دیا۔ رپورٹ میں اس تبدیلی کی ذمہ داری محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام، خصوصاً سیکریٹری اور اسپیشل سیکریٹری صحت، پر عائد کی گئی۔ کمیشن کے مطابق متعلقہ حکام اس اچانک تبدیلی کی قابلِ اطمینان وجہ پیش نہیں کرسکے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کے اجلاس سے متعلق رپورٹ

کمیشن نے 9 اگست 2026 کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کا بھی جائزہ لیا۔ اس اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی کی درخواست پر ڈاکٹر اسامہ نے شرکت کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ اجلاس ڈاکٹر پر دباؤ ڈالنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس لیے کمیشن نے اجلاس میں دی گئی بریفنگ کی بنیاد پر کوئی منفی نتیجہ اخذ کرنے سے گریز کیا۔

تاہم، کمیشن نے کہا کہ اجلاس میں پولیس سرجن کو بھی مدعو کرنا مناسب ہوتا۔

جے آئی ٹی کی تشکیل اور احتساب کی سفارشات

کمیشن نے خبردار کیا کہ شواہد کے ایک بڑے حصے کے متاثر ہونے سے کیس مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عوامی اعتماد میں شدید کمی کے باعث درست نتیجے یا اصل ملزم کی گرفتاری کے باوجود لوگوں کے مطمئن ہونے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

کمیشن نے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی۔ اس میں آئی ایس آئی، آئی بی، پاکستان رینجرز سندھ اور این سی سی آئی اے کے نمائندے شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔ کمیشن کے مطابق اس اقدام سے تحقیقات کی ساکھ بہتر بنانے اور عوامی قیاس آرائیوں کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

رپورٹ میں پولیس کو ابتدائی تفتیش کی کوتاہیوں کا باضابطہ اعتراف کرنے اور معذرت کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ کمیشن نے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری محکمانہ تحقیقات شروع کرنے پر زور دیا۔

ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات کی سفارش

کمیشن نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی۔ اس کی سربراہی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو سونپنے کی سفارش کی گئی ہے۔

کمیٹی کو تحقیقات کے ابتدائی دس دنوں میں شامل پولیس اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لینا ہوگا۔ اسے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 201، 166(2) اور 218 کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات بھی کرنا ہوں گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ قصوروار ثابت ہونے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری کارروائی بھی کی جائے۔

کمیشن کی کارروائی اور کابینہ میں رپورٹ پیش

عدالتی کمیشن نے 27 اگست 2026 کو کام شروع کیا۔ اس نے 7 اکتوبر تک 20 کھلے اجلاسوں میں 50 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے۔ کمیشن نے 5 اکتوبر کو جائے وقوعہ اور ملحقہ علاقوں کا تفصیلی معائنہ بھی کیا۔

رپورٹ کے مطابق تمام اجلاس عوام کے لیے کھلے رکھے گئے۔ اس کا مقصد شفافیت یقینی بنانا اور قیاس آرائیوں کو کم کرنا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق رپورٹ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سات الگ لفافوں میں پیش کی گئی۔ اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں کی۔

وزیراعلیٰ نے سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کردی۔ اس میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہیں۔

سندھ کابینہ کی عالمی بینک پروگرام کی منظوری

سندھ کابینہ نے عالمی بینک کے تعاون سے پراپرٹی ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے 150 ملین ڈالر کے پروگرام کی بھی منظوری دی۔ اس پروگرام کا مقصد ٹیکس وصولی بڑھانا اور مقامی حکومتوں کے مالیاتی نظام کو بہتر بنانا ہے۔

سندھ پراپرٹی ریونیو انہانسمنٹ پروگرام کے تحت کراچی کی 25 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز میں پراپرٹی ٹیکس وصولی 2.3 ارب روپے سے بڑھا کر 25.5 ارب روپے کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بریفنگ کے مطابق عالمی بینک پروگرام کے نتائج سے منسلک حصے کے لیے 110 ملین ڈالر فراہم کرے گا۔ مزید 40 ملین ڈالر سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے مختص ہوں گے۔ سندھ حکومت بھی پروگرام کے نتائج سے منسلک حصے میں اپنی جانب سے 20 فیصد اضافی رقم فراہم کرے گی۔

پروگرام میں دیگر شہری مقامی کونسلوں میں پراپرٹی ٹیکس وصولی کو جدید بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 45 منتخب مقامی کونسلوں کی ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے کا منصوبہ بھی ہے۔

کابینہ نے مقامی حکومتوں میں انٹیگریٹڈ فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (IFMIS) متعارف کرانے کی منظوری بھی دی۔ اس نظام کا مقصد مالیاتی نظم و نسق اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔

پیکج میں مالی معاونت اور عمل درآمد کے معاہدے، نتائج جانچنے کا فریم ورک، تصدیقی طریقہ کار اور ماحولیاتی و سماجی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق پیکج بعد از منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کیا گیا تھا۔ عالمی بینک کے بورڈ کی جانب سے 30 اکتوبر 2026 کو اس پر غور متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.