پاکستان پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ ایسٹ کی سینئر رہنما عائشہ نور نے سانحۂ کارساز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں جمہوریت کے لیے جدوجہد کی یاد دلاتی ہیں۔
عائشہ نور نے کہا کہ 18 اکتوبر 2007 کو شہید بینظیر بھٹو آٹھ سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئی تھیں۔ ان کے استقبال کے لیے کراچی میں ایک بڑا جلوس نکالا گیا تھا۔
دو خودکش دھماکوں میں سیکڑوں افراد متاثر
عائشہ نور کے مطابق بینظیر بھٹو کا استقبالیہ جلوس شاہراہِ فیصل سے کارساز کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اسی دوران دو خودکش دھماکے ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سانحے میں پیپلز پارٹی کے 180 سے زائد کارکنان اور جمہوریت سے وابستہ افراد جان سے گئے۔ 500 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
عائشہ نور کے مطابق بینظیر بھٹو دھماکوں کے وقت ٹرک پر سوار کارکنان سے خطاب کر رہی تھیں۔ وہ حملے میں محفوظ رہیں، تاہم کئی کارکن اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔
شہداء کی قربانیاں جمہوری جدوجہد کی علامت
عائشہ نور نے کہا کہ سانحۂ کارساز کے شہداء کی قربانیاں جمہوریت کی بحالی کے لیے دی جانے والی جدوجہد کی یاد دلاتی ہیں۔
ان کے مطابق پارٹی کے کارکنوں نے اپنی جانیں قربان کرکے جمہوری جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہر سال 18 اکتوبر کو شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ اس موقع پر جمہوریت کے تحفظ اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کی تجدید بھی کی جاتی ہے۔
عائشہ نور نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے یادگار رہیں گی۔