کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی اور کلائمیٹ ایکشن سینٹر نے صحافیوں کے لیے تربیتی نشست کا اہتمام کیا۔ اس میں شدید گرمی اور موسمیاتی بحران کی رپورٹنگ پر گفتگو ہوئی۔
نشست کا موضوع ’’شدید گرمی، موسمیاتی تبدیلی اور کراچی‘‘ تھا۔ کلائمیٹ ایکشن سینٹر کے ڈائریکٹر یاسر حسین نے اس کی قیادت کی۔
کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی کی سیکریٹری فہمیدہ یوسفی بھی موجود تھیں۔ صدر فاضل جمیلی اور سیکریٹری اسلم خان نے بھی شرکت کی۔
کراچی میں درجہ حرارت میں اضافہ
یاسر حسین نے بتایا کہ گزشتہ 60 برسوں میں کراچی کا دن اور رات کا درجہ حرارت بڑھا ہے۔ دن کے درجہ حرارت میں 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا۔ رات کا درجہ حرارت 2.4 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ گیا۔
انہوں نے کہا کہ گرمی کی شدت صرف درجہ حرارت سے طے نہیں ہوتی۔ ہوا میں نمی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ان کے مطابق 35 ڈگری درجہ حرارت اور 70 فیصد نمی میں گرمی 50 ڈگری جیسی محسوس ہوسکتی ہے۔
پانی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کے مسائل
نشست میں کراچی میں پانی کی قلت اور بجلی کی بندش پر بھی بات ہوئی۔ شرکا کو بتایا گیا کہ بعض علاقوں میں روزانہ 10 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔
بجلی کی بندش گرمی کے دوران ٹھنڈک کے ذرائع تک رسائی محدود کردیتی ہے۔ اس سے شہریوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔
یاسر حسین نے ال نینو کے اثرات اور موسمی رجحانات کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے زراعت اور دریائے سندھ کے سکڑتے ڈیلٹا سے متعلق مسائل پر بھی گفتگو کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی بحران سے دوچار ہے۔ تاہم، اس کی سنگینی کے مطابق مکالمہ اور مؤثر ردعمل نظر نہیں آتا۔
گرمی سے بچاؤ کے لیے تحقیقی مطالعات
تربیتی نشست میں کراچی کے موسمیاتی عملی منصوبے سے متعلق تحقیق پیش کی گئی۔ اس میں گرمی کے خطرات کے نقشے بھی شامل تھے۔
ڈاکٹر جمیل کاظمی کی عمارتوں کی حرارتی عکس بندی پر مبنی تحقیق بھی زیر بحث آئی۔ شرکا کو آغا خان یونیورسٹی کے کراچی اور مٹیاری میں جاری تجربات سے آگاہ کیا گیا۔
ان تجربات میں چھتوں پر حرارت منعکس کرنے والی تہہ لگانا شامل ہے۔ ہوا کی آمدورفت بہتر بنانے اور چھتوں کو سایہ دینے پر بھی کام کیا جارہا ہے۔
کراچی کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے تجاویز
نشست میں کراچی کے لیے تیار کردہ منصوبۂ ٹھنڈک کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں شہر کو شدید گرمی سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
اہم تجاویز میں قبل از وقت انتباہی نظام بہتر بنانا شامل ہے۔ شہر میں 10 ہزار شہری جنگلات قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔
کراچی ماسٹر پلان 2047 میں گرمی سے نمٹنے کے اقدامات شامل کرنے پر زور دیا گیا۔ صحت کے مراکز کو گرمی کی ہنگامی صورت حال کے لیے تیار کرنے کی تجویز بھی پیش ہوئی۔
مقامی آبادیوں میں ٹھنڈک کے مراکز قائم کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ شہریوں کو کم خرچ پر ٹھنڈک کی سہولیات فراہم کرنا بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
کمزور طبقات کو گرمی سے لاحق خطرات
نشست کے اختتام پر صحافیوں نے گرمی کے صحتِ عامہ پر اثرات سے متعلق سوالات کیے۔ گفتگو میں کھلے مقامات پر کام کرنے والے محنت کشوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو درپیش خطرات بھی زیر بحث آئے۔
یاسر حسین نے شرکا کے سوالات کے جوابات دیے۔ انہوں نے موسمیاتی بحران کی مؤثر رپورٹنگ کے لیے رہنمائی بھی فراہم کی۔
کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی اور کلائمیٹ ایکشن سینٹر نے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں اداروں کا مقصد موسمیاتی رپورٹنگ بہتر بنانا اور صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔