اقرار الحسن سے اہلِ خانہ کی ملاقات، جسمانی ریمانڈ کا حکم عدالت میں چیلنج

عوام راج پارٹی کے سربراہ اور اینکر اقرار الحسن سے اہلِ خانہ کی ملاقات ہوگئی۔ عدالت نے ملاقات کی درخواست منظور کی تھی۔

اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے ایکس پر بیان جاری کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اقرار الحسن خیریت سے ہیں۔ ان کے حوصلے بھی بلند ہیں۔

جسمانی ریمانڈ کا حکم چیلنج

وکیل میاں علی اشفاق نے جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کو چیلنج کردیا۔ انہوں نے سیشن عدالت شرقی میں درخواست دائر کی۔

درخواست میں ریمانڈ کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ وکیل کے مطابق مجسٹریٹ نے ٹھوس وجوہات بیان نہیں کیں۔

عدالت نے درخواست پر تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کردیا۔ انہیں اگلی سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

موبائل فونز کے فرانزک تجزیے پر مؤقف

میاں علی اشفاق کے مطابق اقرار الحسن کے چار موبائل فون اور ایک ٹیبلٹ این سی سی آئی اے کی تحویل میں ہیں۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فرانزک تجزیے کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری نہیں۔ ان کے مطابق موبائل فونز کا تجزیہ ملزم کی غیر موجودگی میں بھی ہوسکتا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے معلومات حاصل کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل جسمانی ریمانڈ کے بغیر جاری رہ سکتا ہے۔

عدالت میں پیشی

رپورٹ کے مطابق اقرار الحسن کو اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر عدالت کا فیصلہ اہم ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!