جامعہ کراچی میں فیل طلبہ کے نتائج تبدیل کرنے کا معاملہ، اسکروٹنی پر سوالات

کراچی: جامعہ کراچی کے حال ہی میں سبک دوش ہونے والے قائم مقام وائس چانسلر کے مختصر دور میں امتحانی نتائج میں مبینہ رد و بدل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

دستیاب دستاویزات اور متعلقہ ذرائع کے مطابق ایس ایم لاء کالج اور اسلامیہ لاء کالج کے متعدد ایسے طلبہ، جو امتحانی نتائج میں فیل تھے، بعد ازاں اسکروٹنی کے عمل کے ذریعے پاس قرار دیے گئے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تقریباً ڈیڑھ سو طلبہ کے نتائج میں تبدیلی کی گئی۔ بعض طلبہ کو دو یا اس سے زائد مضامین میں بھی پاس کیا گیا۔

فیل طلبہ کے نتائج تبدیل کرنے کا دعویٰ

ذرائع کے مطابق ایل ایل بی کے بعض طلبہ اوبلیگیشنز اور مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں صفر یا کم نمبروں کے باعث فیل ہوئے تھے۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسکروٹنی کے بعد بعض طلبہ کے نمبرز 50 سے 65 کے درمیان کردیے گئے، جس کے نتیجے میں وہ پاس ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق امتحانات کے نتائج جاری ہونے کے بعد پہلے فیل مارک شیٹس جاری کی گئیں، جبکہ اسکروٹنی کے بعد بعض طلبہ کو پاس ظاہر کرنے والی نئی مارک شیٹس بھی جاری کی گئیں۔

اسکروٹنی کمیٹی کے قیام پر سوالات

ذرائع کے مطابق رئیس کلیہ قانون بیرسٹر سرفراز میتلو، دونوں لاء کالجز کے نمائندوں اور ناظم امتحانات پر مشتمل اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی۔

کمیٹی کا اجلاس 5 اگست کو رئیس کلیہ قانون کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں ایل ایل بی پارٹ ٹو کے پیپر نمبر 5 کی جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع نے سوال اٹھایا ہے کہ یونیورسٹی کے موجودہ امتحانی قواعد میں امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔

6 اگست کو اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد سے لینے کا دعویٰ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق منظوری میں "other related cases” کی اصطلاح شامل تھی، جس کے بعد مطالعہ پاکستان کے بعض فیل طلبہ کے نتائج میں بھی تبدیلی کی گئی۔

سابق وائس چانسلر نے معاملہ روک دیا تھا

جامعہ کراچی کے سابق مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کے مطابق ان کے دور میں اس معاملے سے متعلق ایک اجتماعی درخواست موصول ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں اسکروٹنی کے لیے انفرادی درخواست پر کارروائی کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ قواعد کے تحت اینول سسٹم میں صرف ری کاؤنٹنگ کی جاتی ہے، امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر خالد عراقی کے مطابق اسی بنیاد پر انہوں نے مذکورہ درخواست پر کارروائی روک دی تھی۔

پٹرول کی قیمت میں 1 روپے 19 پیسے اضافہ، ڈیزل سستا ہوگیا

ناظم امتحانات نے نتائج تبدیل کرنے سے انکار کیا

رپورٹ کے مطابق جب ناظم امتحانات ڈاکٹر یاسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فیل طلبہ کو پاس کرنے کی تردید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ غلط اطلاع ہے اور کسی فیل طالب علم کو پاس نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب رئیس کلیہ قانون بیرسٹر سرفراز میتلو نے نتائج میں تبدیلی کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے اسے قانونی قرار دیا۔

ان کے مطابق بعض طلبہ کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اور 89 فیصد طلبہ کو ایک ہی استاد نے فیل کیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں پرنسپلز اور ناظم امتحانات کی موجودگی میں کاپیوں کی دوبارہ جانچ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صفر نمبر لینے والے کسی طالب علم کو پاس نہیں کیا گیا، بلکہ صرف چند نمبروں سے فیل ہونے والے طلبہ کے نتائج تبدیل کیے گئے۔

بیرسٹر سرفراز میتلو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی کے قانون میں امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کی گنجائش موجود ہے۔

لاء کالجز کے پرنسپلز کے مؤقف

اسلامیہ لاء کالج کے پرنسپل پروفیسر ندیم ایڈووکیٹ نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے مزید معلومات کے لیے ڈین لاء سے رابطہ کرنے کا کہا۔

ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل پروفیسر فرید ڈایو کے مطابق تقریباً 180 طلبہ کو اسلامیہ کالج کے ایک استاد نے فیل کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے معاملے کو اسکروٹنی کمیٹی میں لے جایا گیا اور جن طلبہ کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، انہیں پاس کیا گیا۔

نئے وائس چانسلر کے لیے معاملہ چیلنج بن گیا

جامعہ کراچی میں نتائج تبدیل کرنے کے اس معاملے نے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کے لیے بھی انتظامی چیلنج پیدا کردیا ہے۔

ڈاکٹر وسیم قاضی کو سندھ کے وزیر اعلیٰ نے چند روز قبل جامعہ کراچی کا وائس چانسلر مقرر کیا ہے۔

متعلقہ پرچوں میں پاس قرار دیے جانے کے بعد طلبہ نئے امتحانات میں شرکت کی تیاری کررہے ہیں۔

One thought on “جامعہ کراچی میں فیل طلبہ کے نتائج تبدیل کرنے کا معاملہ، اسکروٹنی پر سوالات”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!