...

میر رضا کیس جوڈیشل کمیشن میں کاروباری شراکت داروں اور اے ایس پی ندا کا بیان

میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی کارروائی ہوئی۔ کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر عابد فاروق کو روسٹرم پر طلب کیا۔ عابد نے سرمایہ کاری، کاروباری تعلقات اور پولیس کو دیے گئے بیان سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔

میر رضا کے کاروبار میں سرمایہ کاری

عابد فاروق نے بتایا کہ وہ انویسٹمنٹ، کیٹل فارمنگ اور موبائل فون امپورٹ کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کی میر رضا کے ساتھ بھی کاروباری شراکت تھی۔

انہوں نے بتایا کہ میر رضا کے کاروبار میں 70، 70 لاکھ روپے کی دو سرمایہ کاری موجود تھی۔ ان کے درمیان کوئی تحریری معاہدہ نہیں تھا۔ عابد کے مطابق سرمایہ کاری سے متعلق واٹس ایپ چیٹ موجود ہے۔

عابد نے بتایا کہ میر رضا کے والد کے کاروبار میں اگست 2025 میں 50 لاکھ روپے لگائے۔ مارچ 2026 میں مزید ایک کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔

ان کے مطابق اپریل 2026 سے پہلے منافع مناسب تھا۔ اپریل کے بعد منافع میں کمی آگئی تھی۔

کمیشن نے پوچھا کہ اپریل کے بعد ادائیگیاں کیوں رکیں۔ عابد نے کہا کہ میر رضا اور احمد نے ادائیگی کی یقین دہانی کرائی تھی۔

عابد نے کہا کہ میر رضا سے ان کے دوستانہ تعلقات تھے۔ میر رضا نے کبھی مالی مشکلات کا ذکر نہیں کیا۔

گمشدگی سے قبل تین کروڑ روپے کا سوال

کمیشن نے پوچھا کہ میر رضا نے گمشدگی سے قبل تین کروڑ روپے کیوں مانگے تھے۔ عابد نے کہا کہ انہیں اس کی وجہ معلوم نہیں۔

عابد کے مطابق انہوں نے میر رضا سے ایسی کوئی گفتگو نہیں کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے 16 اگست کے قریب ان کا بیان ریکارڈ کیا تھا۔

عابد نے مزید کہا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے ان سے کرپٹو، احمد اور میر رضا کے کاروبار سے متعلق سوالات کیے تھے۔

کمیشن نے پوچھا کہ کیا پولیس نے واٹس ایپ چیٹ کا ریکارڈ حاصل کیا؟ عابد نے کہا کہ پولیس نے چیٹ کا ریکارڈ نہیں لیا۔

انہوں نے بتایا کہ میر رضا کی گمشدگی کی اطلاع انہیں مدینہ میں ملی۔ بعد میں شیری نے انہیں میر رضا کی لاش ملنے کی اطلاع دی۔

دوسرے کاروباری شراکت داروں کے بیانات

کمیشن نے بعد میں دوسرے پارٹنر آصف کو بھی روسٹرم پر طلب کیا۔ آصف نے کہا کہ میر رضا کے ساتھ ان کے بہت اچھے تعلقات تھے۔

کمیشن نے پولیس کے ریکارڈ شدہ بیان سے متعلق بھی عابد سے سوال کیا۔ عابد نے بتایا کہ پولیس نے ان کا بیان کیمرے میں ریکارڈ کیا۔ انہیں بیان پڑھ کر نہیں سنایا گیا۔

عابد نے کہا کہ پولیس نے کرپٹو اور احمد کے بارے میں سوالات کیے تھے۔ تاہم ان کے مطابق یہ باتیں پولیس کے بیان میں شامل نہیں کی گئیں۔

اس کے بعد کمیشن نے گواہ فیض الرحمان کو طلب کیا۔

فیض الرحمان سے مالی معاملات پر سوالات

فیض الرحمان نے بتایا کہ وہ کافی شاپ اور چائنیز فوڈ کا کاروبار کرتے ہیں۔ وہ میر رضا کو 2015-16 سے جانتے تھے۔

فیض کے مطابق جون 2025 میں میر رضا نے ان سے دو لاکھ روپے لیے تھے۔ میر رضا نے بتایا تھا کہ آن لائن فوڈ ڈیلیوری کی رقم عید کے باعث رکی ہوئی ہے۔

فیض نے کہا کہ میر رضا نے 30 جون کو رقم واپس کردی تھی۔ ایک ماہ بعد میر رضا نے مزید مالی مدد مانگی۔ فیض نے رقم دینے سے معذرت کرلی۔

فیض نے مزید بتایا کہ میر رضا نے عاقب سے بھی 10 لاکھ روپے مانگے تھے۔ عاقب نے سرمایہ کاری سے معذرت کرلی تھی۔

فیض نے کہا کہ پولیس نے ان سے کرپٹو سے متعلق بھی سوالات کیے۔ تاہم انہیں میر رضا کے کرپٹو معاملات کا علم نہیں تھا۔

انہوں نے پولیس سے منسوب بعض باتوں کی تردید بھی کی۔ فیض کے مطابق 70 یا 80 لاکھ روپے مانگنے کی بات میر رضا نے احمد راجہ سے کی تھی۔

اے ایس پی ندا جنید سے بھی سوالات

کمیشن نے اے ایس پی بہادر آباد ندا جنید کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ ندا نے بتایا کہ انہوں نے 2023 میں سندھ پولیس جوائن کی تھی۔

ان کے مطابق وہ زون کی واحد خاتون اے ایس پی تھیں۔ پہلی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے خواتین کے انٹرویوز کے لیے انہیں ہدایت دی تھی۔

ندا نے بتایا کہ علی شاز 6 اگست کو خود ان کے دفتر آئے تھے۔ انہوں نے میر رضا کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

ندا کے مطابق علی شاز نے انہیں ایک آڈیو نوٹ بھی دکھایا۔ انہوں نے اسے ممکنہ ثبوت سمجھ کر ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو بھیج دیا۔

کمیشن نے آڈیو نوٹ کے طریقہ کار پر سخت سوالات کیے۔ کمیشن نے پوچھا کہ ندا نے تفتیشی افسر کے بجائے آڈیو براہ راست ایس ایس پی کو کیوں بھیجی۔

کمیشن نے یہ بھی سوال کیا کہ ندا کو کیس میں کام کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا۔ ندا نے بتایا کہ انہیں سینئر افسران کی ہدایات حاصل تھیں۔

تحقیقات میں کردار پر سوالات

ندا نے بتایا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے انہیں این سی سی آئی اے کے ساتھ جانے کی ہدایت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں خاندان کے بیانات کے دوران نوٹس لینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ان کے مطابق اصل بیان تفتیشی افسر نے ریکارڈ کیا۔

کمیشن نے پوچھا کہ کیا ندا کا اپنا بیان پولیس نے ریکارڈ کیا؟ ندا نے کہا کہ ان کا کوئی بیان ریکارڈ نہیں ہوا۔

کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ان کی شمولیت کا کوئی روزنامچہ بنایا گیا تھا۔ ندا نے اس بارے میں بھی لاعلمی ظاہر کی۔

جبران ناصر نے کارروائی کے دوران ندا کی موجودگی اور ان کے کردار پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان نے بھی ندا کی موجودگی پر اعتراض کیا تھا۔

میڈیکل بورڈ اور مزید کارروائی

جبران ناصر نے کہا کہ میڈیکل بورڈ کے کسی رکن کا بیان اب تک ریکارڈ نہیں ہوا۔ کمیشن نے کہا کہ اس معاملے سے متعلق مشاہدات حکم نامے میں شامل کیے جائیں گے۔

کمیشن نے سیکریٹری صحت طاہر سانگی، موجودہ ڈی جی ہیلتھ شہریار میمن اور ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

کمیشن نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے کارروائی کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست بھی کی ہے۔

کمیشن کے مطابق مزید گواہوں کے نام سامنے آرہے ہیں۔ بعض گواہان بیرون ملک ہونے کی وجہ سے کارروائی میں تاخیر ہوئی۔

کمیشن نے بتایا کہ پیر کو ڈی ایس پی سراج لاشاری اور سی پی ایل سی نمائندے کاشف کو طلب کیا جائے گا۔ اے آئی جی آزاد خان، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کو بھی سوالنامے بھیجے جائیں گے۔

جوڈیشل کمیشن نے کارروائی جمعرات تک ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.