سیکیورٹی ایم کیو ایم رہنماؤں کی حفاظت برقرار، پولیس نے خبروں کی تردید کردی

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لیے جانے سے متعلق خبروں پر پولیس نے سندھ حکومت کو تفصیلی رپورٹ پیش کردی۔ پولیس رپورٹ میں رہنماؤں کی سیکیورٹی مکمل طور پر ختم کیے جانے کی خبروں کی تردید کی گئی ہے۔

سیکیورٹی کور بدستور برقرار

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین اور مرکزی رہنماؤں کے لیے مختص سیکیورٹی اہلکار بدستور تعینات ہیں۔ تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی نے جن رہنماؤں کو سیکیورٹی دینے کی سفارش کی تھی، ان کے سیکیورٹی کور میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

پولیس کے مطابق اہم سیاسی شخصیات کی حفاظت کو ترجیحی بنیادوں پر برقرار رکھا گیا ہے۔ سیکیورٹی سے متعلق انتظامات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

اہم رہنماؤں کے پاس سیکیورٹی موجود

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزرا خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے پاس سیکیورٹی موجود ہے۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کو بھی سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

پولیس حکام نے سندھ حکومت کو بتایا کہ سیکیورٹی انتظامات انتظامی ترتیب کے تحت جاری ہیں۔ اہم رہنماؤں کے لیے خطرات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

علی خورشیدی کا مختلف مؤقف

اس سے قبل سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سیکیورٹی واپس لیے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کے مطابق پارلیمانی لیڈر افتخار عالم، طحہٰ احمد، رکن قومی اسمبلی صبیحہ غوری، معید انور اور معاذ محبوب کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

علی خورشیدی نے کہا تھا کہ ان کے پاس تاحال سیکیورٹی موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!