نیا ناظم آباد میں مبینہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے میٹرک کا طالبعلم جاں بحق ہوگیا۔
مقتول کی شناخت روشم کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ میٹرک کا طالبعلم اور پوزیشن ہولڈر تھا۔
روشم اپنے والدین کی آٹھ بیٹیوں کا اکلوتا بھائی تھا۔
مقتول کے والد کے مطابق چھ مسلح ملزمان واردات کی نیت سے گھر میں داخل ہوئے۔ ان میں سے دو ملزمان نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی۔
والد نے بتایا کہ ڈاکوؤں کی آہٹ سن کر وہ کمرے سے باہر آئے۔ اسی دوران دوسرے کمرے سے ان کا بیٹا بھی باہر آگیا۔
ان کے مطابق ملزمان نے اچانک فائرنگ کردی۔ ایک گولی روشم کے سینے میں لگی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
مقتول کے والد نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں گزشتہ 20 سے 25 روز سے پولیس یونیفارم میں ملبوس ملزمان وارداتیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو علاقے میں ہونے والی وارداتوں سے پہلے ہی آگاہ کیا تھا۔ تاہم ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔
والد نے اعلیٰ حکام سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ملزمان کی گرفتاری تک اپنے بیٹے کی تدفین نہیں کریں گے۔
والد کے مطابق مقتول کی میت کے ہمراہ نیا ناظم آباد کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو بلاول ہاؤس کے باہر بھی میت کے ہمراہ احتجاج کریں گے۔
مقتول کے والد نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے پولیس یونیفارم میں وارداتیں کرنے والے گروہ کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔