کراچی (خصوصی رپورٹ): کراچی کے ضلع شرقی میں گلستانِ جوہر اسکیم 36 ایک بار پھر مبینہ تعمیراتی بے ضابطگیوں کے الزامات کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی۔ مختلف بلاکس میں مبینہ غیر قانونی پورشنز، منظور شدہ نقشوں کے برخلاف تعمیرات اور غیر مجاز کمرشل سرگرمیوں سے متعلق شکایات نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نگرانی اور قانون پر عمل درآمد کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں مبینہ طور پر ایسا غیر رسمی نظام سرگرم ہے جسے بعض حلقوں میں ’’اینٹینا سسٹم‘‘ کہا جا رہا ہے۔ ذرائع کی جانب سے تعمیراتی معاملات میں مبینہ ہفتہ وار اور ماہانہ ’’ریکوری‘‘ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سوال یہ ہے کہ اگر اسکیم 36 میں واقعی منظور شدہ نقشوں سے ہٹ کر تعمیرات ہو رہی ہیں تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا نگرانی اور نفاذ کا نظام کہاں ہے؟ کیا متعلقہ حکام کو تعمیرات مکمل ہونے کے بعد بھی خلاف ورزیوں کا علم نہیں ہوتا؟ اور اگر علم ہوتا ہے تو کارروائی کیوں نظر نہیں آتی؟
شہری سہولیات پر دباؤ
مبینہ غیر قانونی پورشنز اور غیر منصوبہ بند تعمیرات کا اثر صرف عمارتوں تک محدود نہیں رہتا۔ بڑھتی ہوئی تعمیرات کے باعث پارکنگ، سڑکوں، پانی، بجلی اور نکاسیٔ آب سمیت بنیادی شہری سہولیات پر اضافی دباؤ کا خدشہ ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی عمارت کا استعمال منظور شدہ نقشے یا اجازت کے برخلاف تبدیل کیا جا رہا ہے تو اس کی نگرانی اور کارروائی کس ادارے کی ذمہ داری ہے؟
ذرائع کی جانب سے مبینہ ہفتہ وار و ماہانہ ریکوری کے الزامات نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ صرف تعمیراتی خلاف ورزیوں کا نہیں بلکہ سرکاری نظام میں مبینہ بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کا بھی بن سکتا ہے۔
تاہم ان الزامات کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اسی لیے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور حقائق سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر عوام کے سامنے لائے جائیں۔
مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے والے افراد کو مقدمات یا ایف آئی آرز میں ملوث کرنے کی مبینہ دھمکیوں کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ شہریوں کے قانونی حقوق اور شکایت کے نظام کے حوالے سے ایک سنگین معاملہ ہوگا۔
ایس بی سی اے سے جواب طلب
عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری سندھ حیدر شاہ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ گلستانِ جوہر اسکیم 36 میں مبینہ تعمیراتی بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
مطالبہ کیا گیا ہے کہ منظور شدہ نقشوں اور موجودہ تعمیرات کا تقابلی جائزہ لیا جائے، مبینہ غیر قانونی پورشنز اور غیر مجاز کمرشل سرگرمیوں کی نشاندہی کی جائے اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔
ساتھ ہی ’’اینٹینا سسٹم‘‘ اور مبینہ ریکوری کے الزامات کی بھی تحقیقات کی جائیں۔
اگر یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی اپنا واضح مؤقف سامنے لانا چاہیے تاکہ عوام کے ذہنوں میں موجود سوالات ختم ہو سکیں۔
اصل سوال
گلستانِ جوہر اسکیم 36 میں قانون کی عملداری ہوگی یا مبینہ ’سسٹم‘ کا اثر برقرار رہے گا؟
یہ سوال اب محض شہریوں کا نہیں، متعلقہ سرکاری اداروں کے لیے بھی ایک سنجیدہ امتحان بن چکا ہے۔
روزنامہ تشکر کا مؤقف: کسی فرد یا ادارے کو بغیر ثبوت قصوروار قرار دینا مقصود نہیں۔ مطالبہ صرف یہ ہے کہ الزامات کی شفاف تحقیقات ہوں، حقائق سامنے لائے جائیں اور قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔