...

جھیل کا خطرہ: چین نے نیپال میں ممکنہ بڑے سیلاب سے خبردار کردیا

کٹھمنڈو: چین نے نیپال کی سرحد کے قریب سیلاب کے نتیجے میں بننے والی ایک بڑی جھیل کے آئندہ تین روز میں پھٹنے کے خطرے سے خبردار کردیا ہے۔ جھیل میں اس وقت تقریباً 20 لاکھ مکعب میٹر پانی جمع ہے اور مزید پانی آنے کی پیش گوئی نے بڑے پیمانے پر سیلاب کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیپال میں چھوچن کھولا اور پورےپو تسانگپو دریاؤں کے سنگم کے قریب سیلاب کے بعد یہ جھیل وجود میں آئی۔ جھیل سے پانی پہلے ہی باہر نکل رہا ہے، جبکہ آئندہ تین روز میں مزید تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی اس میں داخل ہونے کا امکان ہے۔

چینی حکام کے مطابق پانی کی مسلسل آمد سے جھیل کا قدرتی بند ٹوٹنے اور بڑے پیمانے پر سیلاب آنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ حکام جھیل کی مسلسل نگرانی کے ساتھ ممکنہ سیلاب کی پیش گوئی اور مختلف خطرناک منظرناموں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں بروقت اقدامات کیے جاسکیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تبت اور نیپال کی سرحدی پٹی میں گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد آنے والے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔

رپورٹس کے مطابق نیپال اور چین کے متاثرہ علاقوں میں کم از کم 359 افراد ہلاک جبکہ 1300 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد بھارتی شہریوں کی ہے جو ماؤنٹ کیلاش کی یاترا کے لیے اس علاقے میں موجود تھے۔

دیگر لاپتا غیر ملکیوں میں امریکا کے 65، یوکرین کے 53، ملائیشیا کے 51، آسٹریلیا کے 35 اور برطانیہ کے 33 شہری شامل ہیں۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت کے ضلع گیروںگ میں سیلاب سے تین افراد ہلاک اور 558 لاپتا ہوئے ہیں۔ لاپتا افراد میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ تقریباً 100 چینی شہری نیپال کی جانب بھی لاپتا ہیں۔

نیپال میں امدادی کارروائیوں کو دشوار گزار پہاڑی راستوں، مسلسل بارش اور مزید سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.