العربیہ کے مطابق واشنگٹن کو ایرانی جوابی کارروائیوں کے منصوبوں کی اطلاعات ملیں، ٹرمپ نے مذاکرات کے امکانات کم قرار دے دیے
عرب میڈیا کے مطابق امریکا ایران کشیدگی میں اضافے کے خدشات کے درمیان اگر اقتصادی دباؤ مطلوبہ نتائج نہ دے سکا تو امریکا ایران کے خلاف مزید شدید فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔
العربیہ ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن کو ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں سے متعلق منصوبوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ حوثی آبنائے باب المندب میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں جبکہ بحری جہازوں کے خلاف ایرانی حملے بھی دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ کشیدگی کے باعث ایران کے ساتھ مذاکرات روکنے کی ہدایت کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر نے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف اب تک کی "سب سے زیادہ تباہ کن” معاشی کارروائی کا اعلان کر رہے ہیں اور ان کے بقول ایران کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع ہیں۔
اسکول حادثہ: سکھر میں چھت کا پلستر گرنے سے 12 بچیاں زخمی
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ جنگی صلاحیت موجود ہے، تاہم ان کے بقول ملک کے پاس بچ جانے والی صلاحیت "ایک خالی خول” کے سوا کچھ نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس راستے سے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، تاہم مستقبل میں آبنائے ہرمز کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے۔