کراچی: کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور ایک وفاقی سول حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ڈیفنس فیز 2 میں یومِ آزادی کے اسٹال پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث تین مبینہ دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
12 اگست 2026 کو رات تقریباً ساڑھے 11 بجے ڈیفنس فیز 2 کے سن سیٹ بولیوارڈ پر شیل پمپ کے قریب قومی پرچم، جھنڈیاں اور بیجز فروخت کرنے والے اسٹال پر فائرنگ ہوئی تھی۔ فائرنگ سے اسٹال پر موجود 35 سالہ امن ولد جاوید شدید زخمی ہوا، جسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
واقعے کا مقدمہ FIR نمبر 665/2026 تھانہ ڈیفنس میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق مقتول کورنگی کے کرسچن ٹاؤن کا رہائشی تھا اور اگست کے آغاز سے ڈیفنس فیز 2 میں یومِ آزادی کے حوالے سے اسٹال لگا کر روزگار حاصل کر رہا تھا۔
واقعے کے بعد CTD اور وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ تحقیقات شروع کیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دیں۔ تفتیشی ٹیموں نے تکنیکی شواہد اور دیگر دستیاب معلومات کی مدد سے تحقیقات آگے بڑھائیں۔
18 اگست کو کورنگی انڈسٹریل ایریا میں کاز وے ندی کے قریب کارروائی کے دوران تین مبینہ دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد کی شناخت ظفر علی ولد عبدالرؤف، فراز ولد محمد اسماعیل اور سجاد احمد ولد بشیر احمد کے نام سے ہوئی ہے۔
CTD کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے 3 ہینڈ گرنیڈ اور ایک پستول برآمد ہوا۔ حکام نے ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 اور ایکسپلوسیو سبسٹنسز ایکٹ 1908 کی متعلقہ دفعات 4 اور 5 کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔
ابتدائی تفتیش میں گرفتار ملزمان نے کالعدم تنظیم سندھودیش ریوولوشنری آرمی (SRA) سے وابستگی کا دعویٰ کیا ہے۔ CTD کے مطابق ملزمان نے تفتیش کے دوران بتایا کہ انہیں بیرونِ ملک موجود ایک مبینہ دہشتگرد ارسلان شاہ کی جانب سے کراچی میں یومِ آزادی کے موقع پر قائم اسٹالز کی ریکی اور ایک اسٹال کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق سجاد احمد ملاح نے 3 اگست سے کراچی کے مختلف علاقوں میں یومِ آزادی کے اسٹالز کی ریکی شروع کی، جبکہ 11 اگست کو ڈیفنس فیز 2 میں موجود اسٹال کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
CTD کے مطابق 12 اگست کی شب سجاد ملاح 125 موٹر سائیکل پر جائے وقوعہ پہنچا، جبکہ ظفر اور فراز دوسری موٹر سائیکل پر اس کے ساتھ موجود تھے۔ تفتیشی بیان کے مطابق سجاد ملاح نے اسٹال پر موجود امن کو فائرنگ کا نشانہ بنایا اور تینوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ تینوں مبینہ دہشتگرد کورنگی کے اللہ والا ٹاؤن سے روانہ ہوئے تھے۔ حکام واردات کے بعد ان کی نقل و حرکت، ممکنہ سہولت کاروں، بیرونِ ملک موجود رابطہ کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
CTD کے مطابق ملزمان نے تفتیش میں دعویٰ کیا کہ کراچی میں 14 اگست سے قبل خوف و ہراس پیدا کرنے کے مقصد سے انہیں بیرونِ ملک سے مالی معاونت فراہم کی گئی۔
گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ حکام ان کے ممکنہ سہولت کاروں، اسلحہ اور بارودی مواد کی فراہمی اور دیگر ممکنہ وارداتوں میں ملوث ہونے کے شواہد بھی تلاش کر رہے ہیں۔ CTD کا کہنا ہے کہ مزید شواہد ملنے پر دیگر ملزمان اور مبینہ سہولت کاروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔