نیگلیریا سے بچاؤ اور شہریوں کو محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں چیف آپریٹنگ آفیسر انجینئر اسداللہ خان کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت سندھ، عالمی ادارۂ صحت (WHO)، یونیسیف اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں پانی کی کلورینیشن، پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی، مشترکہ سرویلنس، عوامی آگاہی مہم اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے۔ حکام نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں اور رہائشی عمارتوں کے زیرِ زمین اور اوور ہیڈ پانی کے ٹینک ہر چھ ماہ بعد لازمی صاف کریں اور ایک ہزار گیلن پانی میں ماہرین کی ہدایت کے مطابق ایک کلورین گولی استعمال کریں تاکہ پانی جراثیم سے پاک رہے۔
ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کراچی ڈاکٹر ثاقب علی شیخ نے کہا کہ محکمہ صحت اور واٹر کارپوریشن مشترکہ طور پر شہر بھر سے پانی کے نمونے حاصل کر کے ان کا تجزیہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ فلٹر پلانٹس کے معائنے، تکنیکی عملے کی تربیت اور پانی کے معیار کی نگرانی کا عمل بھی مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
اجلاس میں عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف کے نمائندوں نے یقین دہانی کرائی کہ نیگلیریا سے بچاؤ کی مہم کے لیے کلورین گولیاں، سوڈیم ہائپوکلورائیٹ، آگاہی بینرز اور دیگر حفاظتی سامان جلد فراہم کیا جائے گا، جبکہ عوامی آگاہی کے لیے ڈپٹی کمشنرز اور علمائے کرام کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔
واٹر کارپوریشن حکام نے اجلاس کو بتایا کہ ادارہ شہر کے چھ مختلف مقامات پر قائم نو فلٹر پلانٹس پر عالمی ادارۂ صحت کے معیار کے مطابق چوبیس گھنٹے کلورینیشن کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق ہر ماہ تقریباً 240 کلورین سلنڈرز استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ پری فلٹریشن میں 1.0 پی پی ایم اور پوسٹ فلٹریشن میں 2.0 پی پی ایم کلورین شامل کی جاتی ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ عالمی بینک کے تعاون سے شہر میں 16 کلورینیشن پوائنٹس قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مزید 29 مقامات پر کلورینیشن پوائنٹس قائم کیے جائیں گے تاکہ دور دراز اور ٹیل اینڈ علاقوں تک بھی محفوظ اور جراثیم سے پاک پانی پہنچایا جا سکے۔
ہائیڈرنٹس سیل کے مطابق تمام سرکاری ہائیڈرنٹس سے روانہ ہونے والے واٹر ٹینکرز میں بھی ہر ایک ہزار گیلن پانی کے لیے ایک کلورین گولی شامل کی جا رہی ہے، جبکہ لیبارٹری عملہ روزانہ مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے حاصل کر کے کلورین کی مقدار اور پانی کے معیار کی جانچ کر رہا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر چیف آپریٹنگ آفیسر انجینئر اسداللہ خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کلورینیشن، لیبارٹری ٹیسٹنگ، پانی کے معیار کی نگرانی اور عوامی آگاہی کے اقدامات میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ نیگلیریا سے بچاؤ کے لیے پانی کے ٹینک باقاعدگی سے صاف رکھیں، وضو، غسل اور ناک کی صفائی کے لیے کلورین ملا یا ابلا ہوا پانی استعمال کریں، غیر معیاری سوئمنگ پولز اور آبی ذخائر میں نہانے سے گریز کریں اور صرف واٹر کارپوریشن سے منظور شدہ واٹر ٹینکرز سے ہی پانی حاصل کریں۔



