مہنگائی پر تبصرہ کرتے ہوئے اینکر پرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے سیاسی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں میں اپنی کارکردگی نمایاں کر رہی ہے۔ تاہم، بڑھتی ہوئی مہنگائی ان کوششوں کے سیاسی فوائد کو کم کر رہی ہے۔
لاہور میں بارشوں کی صورتحال
منیب فاروق کے مطابق مون سون بارشوں کے بعد لاہور کی مختلف سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلیں۔ ان تصاویر اور ویڈیوز پر عوام نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اپنی کارکردگی کا دفاع کر رہی ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق بارش کے دو سے تین گھنٹوں کے اندر بیشتر علاقوں سے پانی نکال دیا گیا اور صورتحال کو قابو میں لے لیا گیا۔
مہنگائی کا سیاسی اثر
تجزیہ کار نے کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اقدامات کو اپنی کامیابی قرار دے سکتی ہے۔ لیکن عوام روزمرہ زندگی میں مہنگائی کا براہِ راست اثر محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے عوامی ناراضی بڑھتی ہے۔ یہی ناراضی بالآخر حکومت کی سیاسی مقبولیت کو متاثر کرتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کو درپیش چیلنجز
منیب فاروق کے مطابق حکمران جماعت کو اس وقت اپنے سیاسی سرمائے کو برقرار رکھنے کا بڑا چیلنج درپیش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف اپوزیشن فارم 47 سے متعلق الزامات عائد کر رہی ہے۔ دوسری طرف مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر عوام تنقید کر رہے ہیں۔
ان کے بقول معاشی مسائل پر عوام کا ردعمل زیادہ تر وفاقی حکومت کی طرف ہوتا ہے، جس کا سیاسی دباؤ بھی حکمران جماعت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن
منیب فاروق نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت نسبتاً بہتر سیاسی پوزیشن میں نظر آ رہی ہے۔
ان کے مطابق گلگت بلتستان میں حالیہ سیاسی کامیابی سے پارٹی کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ سندھ میں 2008 سے مسلسل حکومت بھی پارٹی کے سیاسی استحکام کا سبب بنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار میں موجود قیادت بعض اوقات عوامی مشکلات کی شدت کا مکمل اندازہ نہیں لگا پاتی۔ ان کے بقول مہنگائی نے عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر موجودہ حالات میں عام انتخابات ہوں تو مسلم لیگ (ن) کو سخت سیاسی مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔