ایران یوکرین کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے بحیرہ کیسپین میں اپنے جہاز پر مبینہ حملے کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد نے کہا ہے کہ یوکرین کے مبینہ غیرذمہ دارانہ اقدام کو جواب دیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔
علی نیکزاد نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سرحدی سلامتی کے دفاع کا قانونی حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کے بقول ایران کی سرزمین یا مفادات کو کسی بھی مقام سے نشانہ بنانے کی صورت میں متعلقہ مقام کو جائز فوجی ہدف تصور کیا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرینی افواج نے ایک روسی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا اور بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی جہاز بھی حملے کی زد میں آیا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے بعد ازاں ایرانی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اس واقعے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر کے واقعے پر باضابطہ احتجاج کیا اور حملے کو دشمنی پر مبنی اور مجرمانہ اقدام قرار دیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 2(4) کی خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے لیے مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
بعد ازاں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، یورپی یونین اور عالمی برادری سے مؤثر ردعمل کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ اس واقعے کے ذمہ داروں اور ان کے مبینہ سہولت کاروں کا احتساب کیا جانا چاہیے