...

عباسی شہید اسپتال: منعم ظفر کا تنخواہوں، فنڈز اور طبی سہولیات کی صورتحال پر سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ

عباسی شہید اسپتال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کارکردگی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں بہتری کے دعوے کرتی ہے، لیکن عملی طور پر عوام کو بنیادی طبی سہولیات میسر نہیں۔

منعم ظفر نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے، جس کا اعتراف صوبائی وزیر سعید غنی بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال کے ینگ ڈاکٹرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز گزشتہ آٹھ روز سے احتجاج کر رہے ہیں، لیکن ان کے مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق ہاؤس آفیسرز کی تنخواہیں دو ماہ سے زیر التوا ہیں اور انہیں مکمل معاوضہ بھی ادا نہیں کیا جا رہا۔

منعم ظفر نے دعویٰ کیا کہ ہاؤس آفیسرز کی مقررہ تنخواہ 69 ہزار روپے ہے، جبکہ انہیں 45 ہزار روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیکیورٹی گارڈز کی تنخواہیں بھی اس سے زیادہ ہیں، جو طبی عملے کے ساتھ ناانصافی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ نجی اسپتالوں کو فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام بڑے سرکاری اسپتالوں کو مطلوبہ وسائل نہیں مل رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عباسی شہید اسپتال اور ولیکا اسپتال میں انتظامی اور مالی مسائل کے باعث طبی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے مطالبہ کیا کہ ہاؤس آفیسرز کو فوری طور پر مکمل تنخواہیں ادا کی جائیں، اسپتال میں سیکیورٹی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں، ادویات کی قلت ختم کی جائے اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ عباسی شہید اسپتال میں میڈیکل اسٹورز نجی ادارے چلا رہے ہیں اور یہ سب انتظامیہ کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.