...

گل پلازہ کیس: پراسیکیوشن نے نامکمل تفتیش پر پولیس کا چالان دوبارہ واپس کر دیا

گل پلازہ کیس: کراچی کی سٹی کورٹ میں سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے پولیس کی جانب سے جمع کرایا گیا چالان ایک مرتبہ پھر واپس کر دیا۔ پراسیکیوشن نے تفتیش کو نامکمل اور ناقص قرار دیتے ہوئے متعدد اہم نکات پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پراسیکیوشن کا مؤقف ہے کہ پہلے چالان میں جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، پولیس نئی تفتیشی رپورٹ میں بھی انہیں دور کرنے میں ناکام رہی۔ اس صورتحال کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ کراچی نے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس طلب کر لیا ہے۔

پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق چالان کے ساتھ عدالتی کمیشن کی رپورٹ منسلک نہیں کی گئی۔ تفتیش میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ عمارت کے ایمرجنسی گیٹ کیوں بند تھے، راستے کس نے بلاک کیے اور ایک دکان کی جگہ دو اور تین دکانیں کیسے قائم کی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) اور فائر بریگیڈ کے متعلقہ حکام کے کردار کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے تھا، تاہم پولیس نے انہیں تفتیش کا حصہ نہیں بنایا۔

پراسیکیوشن کے مطابق پولیس نے چار صفحات پر مشتمل چالان میں 11 سالہ بچے سمیت چھ افراد کو سانحے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ چالان میں تنویر پاستا، حذیفہ، عمار اسماعیل، امین، محمد رمضان اور نعمت اللہ کو نامزد ملزم قرار دیا گیا ہے، جبکہ 60 سے زائد گواہوں کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نامزد ملزم 11 سالہ حذیفہ سمیت چار افراد کے بیانات عدالت میں ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ عدالت میں دیے گئے بیان میں حذیفہ نے ماچس کی تیلیوں سے کھیلنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

چالان کے مطابق تنویر پاستا یونین کے صدر، عمار اسماعیل نائب صدر، امین جنرل سیکریٹری، محمد رمضان جوائنٹ سیکریٹری جبکہ نعمت اللہ اس دکان کے مالک ہیں جہاں سے آگ لگنے کا واقعہ پیش آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم عدالت میں مقدمے کی مزید کارروائی پولیس کی مکمل اور جامع تفتیشی رپورٹ جمع کرانے کے بعد آگے بڑھے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.