امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع ملیر میں جرائم کی مجموعی صورتحال، زیرِ تفتیش مقدمات اور پولیس کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ایس ایس پی ملیر نے جرائم کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ہدایت دیتے ہوئے اسٹریٹ کرمنلز، منشیات فروشوں اور گٹکا و ماوا مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کا حکم دیا۔
انہوں نے پولیس افسران کو اشتہاری اور مفرور ملزمان کی فوری گرفتاری یقینی بنانے کی ہدایت کی، جبکہ اسنیپ چیکنگ، کامبنگ اور سرچ آپریشنز کو مزید مؤثر اور مربوط انداز میں جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
ڈاکٹر عبدالخالق نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تمام افسران کو عوام کے ساتھ خوش اخلاقی، شائستہ رویہ اور پیشہ ورانہ انداز اپنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ پولیس اور شہریوں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اجلاس میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان اے سی ہولڈرز سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایس ایس پی ملیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ایس ایچ اوز کو سی سی تھرڈ سرٹیفکیٹس کے لیے نامزد کیا گیا۔ ایس ایس پی ملیر نے اس موقع پر کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع ملیر میں امن و امان کے قیام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
