سندھ بجٹ مالی سال 2026-27 کے لیے سندھ اسمبلی نے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ بجٹ کا حجم ساڑھے 3 ٹریلین روپے سے زائد ہے۔ ایوان نے سپلیمنٹری گرانٹس کی بھی منظوری دے دی۔
ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 344 ارب روپے کے خسارے کے باوجود تقریباً 100 ترقیاتی منصوبے مکمل کیے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں 1,800 سے زائد منصوبے مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
کراچی کی سڑکوں کی بحالی
مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کی کئی سڑکیں خستہ حال ہیں۔ حکومت نے تمام سڑکوں کا سروے مکمل کر لیا ہے۔ بعض منصوبے ایف ڈبلیو او کے سپرد کیے جائیں گے، جبکہ باقی سڑکیں سندھ حکومت تعمیر کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بھی چند اہم شاہراہوں پر تعاون کر رہی ہے۔ ان کے بقول بڑے ترقیاتی منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔
کیٹی بندر منصوبہ
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے کیٹی بندر منصوبے پر بات کی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کیٹی بندر میں صرف بندرگاہ نہیں بنائی جائے گی، بلکہ اس کے ساتھ ایک مکمل اقتصادی نیٹ ورک بھی قائم کیا جائے گا۔ منصوبے میں گرین انرجی نیٹ ورک بھی شامل ہوگا، کیونکہ سندھ میں سستی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
گل پلازہ رپورٹ جلد جاری ہوگی
مراد علی شاہ نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ جلد عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے لیے 8 ارب روپے کی سبسڈی بھی فراہم کی گئی ہے۔