آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اس اہم بحری گزرگاہ پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری قبول نہیں کرے گا۔
خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں پائیدار امن چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ امن حقیقی اور دیرپا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امن سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
اتحادیوں کے مفادات اہم
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا جو اتحادی ممالک کے خلاف ہو۔
ان کے مطابق ایران سے ہونے والے کسی بھی معاہدے میں شراکت دار ممالک کے مفادات شامل ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔
مذاکرات کا اگلا مرحلہ
امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ تکنیکی ٹیمیں 30 جون کو سوئٹزرلینڈ جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ وہاں ایران کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔
ان مذاکرات میں جوہری پروگرام زیر بحث آئے گا۔
پابندیوں سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوگی۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا معاہدے کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے۔
ان کے مطابق اس مقصد کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔
آبنائے ہرمز پر مؤقف
مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اہم راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحری گزرگاہ پر کسی ایک ملک کا کنٹرول قابل قبول نہیں۔
ان کے مطابق عالمی تجارت کی روانی برقرار رہنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بحری راستوں کی سلامتی عالمی مفاد کا حصہ ہے۔