...

سرخی: ایران امریکا مفاہمت: بیلسٹک میزائل معاہدے کا حصہ نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: ایران امریکا مفاہمت کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی ذکر شامل نہیں، اور اس معاملے کو غلط انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر موجود نہیں اور نہ ہی یہ معاملہ مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر امن کے لیے ہونے والی پیش رفت کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ معاہدے میں میزائل پروگرام سے متعلق کوئی شق شامل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیلسٹک میزائلوں کے معاملے پر دوہرا معیار اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول اگر بعض ممالک اپنے دفاع کے لیے ایسے نظام رکھتے ہیں تو ایران کے حقِ دفاع پر بھی سوال نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ بطور ثالث مفاہمتی یادداشت پر ان کے دستخط موجود ہیں اور وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس دستاویز میں میزائل پروگرام کا کوئی حوالہ شامل نہیں۔ انہوں نے اس معاملے پر پائے جانے والے ابہام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقائق کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے۔

شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ثالثی کے عمل میں خلوصِ نیت کے ساتھ کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی خوشی پاکستان کی خوشی اور ایران کا نقصان پاکستان کا نقصان ہے۔

وزیراعظم نے ایرانی قیادت اور عوام کے عزم و حوصلے کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سفارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس سے قبل ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا نور خان ایئربیس پر پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ان کا خیرمقدم کیا۔ ایرانی صدر کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی جبکہ پاک فضائیہ کے جے ایف-17 طیاروں نے فضائی سلامی پیش کی۔

دورے کے موقع پر وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے جبکہ ریڈ زون میں قائم متعدد سرکاری اداروں کے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.