...

امریکا ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل شروع، جے ڈی وینس کے دعوے

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مبینہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے ایک رات میں ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل سے زائد تیل کی ترسیل مکمل ہو چکی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران نے اب تک کسی تجارتی یا عسکری جہاز پر حملہ نہیں کیا اور مبینہ مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے کی شق پر عمل جاری ہے۔

ان کے مطابق معاہدے میں شامل 60 روزہ ابتدائی دورانیہ آج سے شروع ہو گیا ہے، جس کے دوران فریقین اقدامات پر عمل درآمد کریں گے۔

جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ ایران کی بیشتر فوجی صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں اور تہران اب اپنی معیشت کی بحالی چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا رویہ بہتر رہا تو یہ اس کے اپنے مفاد میں ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور آئندہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران خطے میں کسی بھی “غیر ریاستی سرگرمی” کی مالی معاونت نہ کرے۔

امریکی نائب صدر کے مطابق ممکنہ حتمی معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور پابندیوں سے متعلق مزید سخت شرائط شامل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بعض پابندیاں عارضی طور پر کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی نرم کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو بھی امن عمل کا احترام کرنا ہوگا جبکہ لبنان میں شہری علاقوں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔

جے ڈی وینس کے مطابق یہ پیش رفت علاقائی امن و استحکام کی جانب ایک قدم ہے، تاہم ایران کے رویے میں تبدیلی تک منجمد اثاثے بحال نہیں کیے جائیں گے اور امریکی افواج کی پوزیشن کو بھی جنگ سے پہلے کی سطح پر ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.