ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں وسائل کی تقسیم پر اتفاق، این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی برقرار رکھنے کا فیصلہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملک میں مالی وسائل کی تقسیم کے ایک نئے فریم ورک پر اصولی اتفاق رائے سامنے آیا ہے، تاہم دونوں جماعتوں نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
Wednesday, 10th June 2026

ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی مشاورت میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے موجودہ فارمولے اور بی آئی ایس پی کے نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اس پیش رفت کو وفاق کو درپیش مالی مشکلات کے تناظر میں ایک اہم سیاسی مفاہمت قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت صوبے مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے مجموعی طور پر 10 کھرب روپے سے زائد وسائل وفاق کو فراہم کرنے میں کردار ادا کریں گے، تاہم اس طریقہ کار اور تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے تکنیکی کمیٹیوں کو ذمہ داری سونپی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مفاہمت وفاقی حکومت پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو کم کرنے اور این ایف سی ایوارڈ جیسے حساس آئینی اور سیاسی معاملے کو دوبارہ کھولنے سے گریز کے لیے کی گئی ہے۔

مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاری اور پیشی کے دوران پیپلز پارٹی نے این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی مخالفت کی۔ پارٹی کا مؤقف تھا کہ دونوں پروگرام عوامی مفاد اور صوبائی حقوق کے حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مختلف حلقوں کی جانب سے ماضی میں نئے این ایف سی ایوارڈ اور وسائل کی ازسرنو تقسیم کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں، تاہم سندھ اور پیپلز پارٹی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

موجودہ مفاہمت کے تحت مالی ایڈجسٹمنٹ براہِ راست صوبائی حصے میں کمی کے بجائے دیگر انتظامی اور مالیاتی اقدامات کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ ان میں ترقیاتی اخراجات کی نئی ترتیب، وفاقی منصوبوں میں صوبائی شراکت داری یا دیگر مالیاتی اصلاحات شامل ہو سکتی ہیں، تاہم ان تجاویز پر تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے مذاکرات میں واضح کیا کہ این ایف سی ایوارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پارٹی کے لیے سیاسی اور عوامی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے انہیں موجودہ شکل میں برقرار رکھا جائے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی تعاون اور ہم آہنگی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت وفاقی مالیاتی استحکام اور بین الحکومتی تعاون کے حوالے سے اہم قرار دی جا رہی ہے، جبکہ اس کے عملی خدوخال آنے والے دنوں میں مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

One thought on “ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں وسائل کی تقسیم پر اتفاق، این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی برقرار رکھنے کا فیصلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!