ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ کیے گئے متن کا جائزہ لے رہے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے لوڈشیڈنگ درخواست جرمانے سمیت مسترد کی
لبنانی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی افواج ان مقامات پر دفاعی کارروائیاں کر رہی ہیں جہاں امریکی مفادات یا تنصیبات استعمال ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی دشمنانہ اقدام کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملہ کیا گیا تو ایران اس کا بھرپور اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔
انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاہم واضح کیا کہ ایران اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
دریں اثنا عباس عراقچی نے پاکستان، سعودی عرب، فرانس، ترکیہ، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے بھی کیے۔
جاپان میں ایرانی سفارت خانے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔