کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے "عوامی تھیٹر فیسٹیول 2026” کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس حسینہ معین ہال میں منعقد کی گئی۔ اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، نائب صدر و سینئر اداکار منور سعید، ڈرامہ کمیٹی کے چیئرمین شہزاد رضا نقوی اور سیکریٹری اعجاز فاروقی نے فیسٹیول کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کیا۔
صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے بتایا کہ فیسٹیول کا آغاز 22 جنوری سے ہوگا اور یہ 25 روز تک، یعنی 15 فروری تک آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے اے سی آڈیٹوریم میں جاری رہے گا۔ جمعہ 6 فروری کو بشیر سدوزئی کے لکھے ہوئے ڈرامہ "دخترِ کشمیر” کو اوپن ایئر تھیٹر میں پیش کیا جائے گا۔ اس فیسٹیول میں اردو، پنجابی، میمنی، بلوچی، سرائیکی اور سندھی زبان میں کل 30 ڈرامے پیش کیے جائیں گے۔ ڈرامے روزانہ رات 8 بجے شروع ہوں گے جبکہ ہفتہ اور اتوار کے دن دو شوز بھی پیش کیے جائیں گے۔
محمد احمد شاہ نے کہا کہ آرٹس کونسل میں تخلیقی آزادی موجود ہے، لیکن مجرے اور امتیازی سلوک کو اداکاری کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے عوام کو مفت تفریح فراہم کرنے، ڈراموں کو بہتر بنانے اور خاندانوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی ہمارا شہر اور سندھ ہمارا صوبہ ہے، اور آرٹس کونسل کی ذمہ داری ہے کہ عوامی ثقافت اور فنون کو فروغ دے۔
نائب صدر آرٹس کونسل منور سعید نے کہا کہ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز تھیٹر سے کیا اور نوجوان اداکاروں کو ایمانداری، محنت اور لگن کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی۔ ڈرامہ کمیٹی کے چیئرمین شہزاد رضا نقوی نے کہا کہ آرٹسٹوں کو سراہا جائے اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر عوام کو خوشیوں کا پیغام دیا جائے۔
فیسٹیول میں شامل اہم اداکار اور ڈائریکٹرز میں شکیل شاہ، وجیہہ وارثی، سہیل عباسی، ایچ اقبال، رضوان مرا، سید علی دارین، احسان امروہی، حمید راٹھور، ذاکر مستانہ، شوکت اترخیل، شبیر بھٹی، عظمت علی، شمیر راہی، تسنیم رعنا، بابر جمال، الیاس ندیم، نذر حسین، آفتاب کامدار، رﺅف لالہ، شکیل صدیقی، ولی شیخ، دانش بلوچ، آدم راٹھور، سلیم آفریدی، ظہور ملک، جمال مجیب، رشید صابر، جمیل راہی، آصف شرمیلا، زاہد شاہ، خالد دانش، یونس میمن، رضوان صابر، پرویز صدیقی اور شیما کرمانی شامل ہیں۔
ڈراموں کی فہرست میں "سیدھی جلیبی”، "مرزا غالب اِن کراچی”، "ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے”، "اُلٹا شُلٹا”، "بہت ہوگئی بیگم”، "تجھ پہ قرباں”، "یہ کیسا دور ہے؟”، "واہ تیرا کیا کہنا”، "رَب دیاں رحمتاں”، "نونے پوں”، "میرے فرینڈ کی گرل فرینڈ”، "بی پازیٹو”، "پنجو تھینو کرو”، "بد روح”، "مریض کروڑ کا”، "لالے دی جان”، "وطن کی مٹی”، "کندانا بیائ”، "سلیم کی کہانی”، "پردیس”، "پالنا”، "اب کیا ہوگا؟”، "ٹینشن”، "یہ کیسے رشتے ہیں؟”، "محبت کیا بھاﺅ ہے؟”، "دل جی دُنیا”، "نہلے پہ دھلا” اور "مجھ میں تُو موجود” شامل ہیں۔
