اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) پاکستان نے آبادی سے متعلق پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حقائق کے تناظر میں آبادی کو بوجھ کے بجائے پائیدار اور جامع ترقی کا ایک اسٹریٹجک محرک سمجھنے کی ضرورت ہے۔
Wednesday, 31st December 2025
یو این ایف پی اے کی جانب سے جاری بیان میں سال 2026 کے تناظر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قومی منصوبہ بندی اور مالیاتی فیصلوں خصوصاً این ایف سی (نیشنل فنانس کمیشن) فارمولے میں آبادی کو شامل کرنے کے طریقہ کار میں اصلاحات کی جائیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ صرف آبادی کے حجم کو بنیاد بنانے کے بجائے مستقبل پر مبنی نقطہ نظر اپنانا ناگزیر ہے۔
بیان کے مطابق نئے طریقہ کار کے تحت صوبوں کو صنفی مساوات، ماحولیاتی استحکام، متوازن آبادیاتی نتائج، اور صحت و تعلیم کی خدمات کے معیار میں بہتری جیسے قابلِ پیمائش اہداف کے حصول پر مالی مراعات دی جانی چاہئیں۔ یو این ایف پی اے کا کہنا ہے کہ ایسی اصلاحات سے مالیاتی مراعات کو انسانی ترقی کے نتائج کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا اور جدت، شفافیت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا۔
ادارے نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی سفارشات پر مؤثر عمل درآمد کے لیے واضح جوابدہی کے نظام، مقررہ ٹائم لائنز اور پائیدار ملکی مالی وسائل کی فراہمی پر بھی زور دیا۔ یو این ایف پی اے کے مطابق یہ تمام اقدامات مضبوط آبادیاتی ڈیٹا اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پیش رفت کے باوجود پاکستان کو اب بھی متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں زچہ و بچہ کی بلند شرح اموات، خاندانی منصوبہ بندی کی نامکمل ضروریات، کم عمری کی شادیاں، صنفی بنیاد پر تشدد اور خصوصاً دور دراز علاقوں میں معیاری تولیدی صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی شامل ہیں۔
یو این ایف پی اے نے نشاندہی کی کہ یہ مسائل شرحِ پیدائش میں سست رفتار کمی اور غیر متوازن ترقیاتی نتائج سے بھی گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، جن کے حل کے لیے مربوط، طویل المدتی اور انسان دوست پالیسیوں کی فوری ضرورت ہے۔
