کراچی: شہر میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر ٹریفک پولیس نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پہلی بار بھاری گاڑیوں کے ڈرائیورز کا نشے کا ٹیسٹ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس تاریخی آپریشن کا آغاز شیر شاہ روڈ پر کیا گیا ہے جہاں ٹریفک پولیس کی بھاری نفری طبی عملے کے ساتھ موجود ہے۔
سندھ میں 80 فیصد نجی صنعتی ادارے کم از کم تنخواہ قانون پر عملدرآمد میں ناکام، پی اے سی کا سخت نوٹس
ذرائع کے مطابق پہلی لین میں چلنے والی بھاری گاڑیوں کو روکا جا رہا ہے اور ڈرائیورز کے خون کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھیجے جا رہے ہیں۔ ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرگ ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں متعلقہ ڈرائیورز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے کاغذات اور ڈرائیونگ لائسنس کی بھی مکمل جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق کئی ڈرائیورز کے نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں، جبکہ بغیر لائسنس یا نامکمل دستاویزات پر چالان بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سال 2025 کے آغاز میں کراچی میں ہیوی ٹریفک سے متعلق حادثات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جن میں درجنوں شہری، خصوصاً موٹر سائیکل سوار، جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے بعد عوامی غصے میں اضافہ ہوا اور متعدد واقعات میں مشتعل شہریوں نے حادثے کا سبب بننے والی بھاری گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔
ان حادثات کے بعد حکومت نے فوری اقدامات کرتے ہوئے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا آغاز کیا۔ موٹر سائیکل سواروں کیلئے ہیلمٹ لازمی قرار دیا گیا، 43 ہزار موٹر سائیکلیں ضبط کی گئیں، کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا، اور ہیوی ٹریفک کے لیے ایس او پیز کے ساتھ شہر میں داخلے کے اوقات طے کیے گئے، جس کے بعد حادثات میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
