مائیکروفنانس کانفرنس مالی شمولیت کو معاشی ترقی میں بدلنے پر زور

پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک کے زیر اہتمام دسویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس کراچی میں اختتام پذیر ہوگئی۔

کانفرنس میں حکومت، ریگولیٹرز، مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔ شرکا نے پاکستان میں مالی شمولیت کے مستقبل پر گفتگو کی۔

دو روزہ کانفرنس اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (UNIDO) اور سندھ کے دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے کے پروگرام PAIDAR کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔

کانفرنس میں خواتین، کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور پسماندہ دیہی طبقات کی مالی ضروریات زیر بحث آئیں۔

شرکا نے صارفین کی ترقی، مالی استحکام اور معاشی اثرات کو جانچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مالی شمولیت سے پائیدار ترقی پر زور

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورچوئل خطاب کیا۔ انہوں نے مالی شمولیت کو پائیدار معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔

انہوں نے زراعت اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو رسمی مالیاتی نظام میں شامل کرنے پر زور دیا۔

ان کے مطابق قرضوں کے لیے اثاثے بطور ضمانت رکھنے کی شرط پر انحصار کم ہونا چاہیے۔ اس کے بجائے نقد آمدن کی بنیاد پر قرضوں کی فراہمی بڑھائی جائے۔

انہوں نے ڈیجیٹل کریڈٹ ٹولز اور متبادل اعداد و شمار کے استعمال کی بھی حمایت کی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ کامیابی صرف قرضوں یا مستفید افراد کی تعداد سے نہیں ناپی جاسکتی۔

ان کے مطابق یہ دیکھنا ضروری ہے کہ قرض لینے والوں کی مالی حالت کتنی بہتر ہوئی۔ روزگار کے نئے مواقع اور خواتین کی معاشی شرکت بھی اہم پیمانے ہیں۔

مائیکروفنانس کو مالیاتی نظام کا حصہ بنانے کی ضرورت

پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک کے چیئرمین عامر خان نے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ وہ ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کے صدر اور سی ای او بھی ہیں۔

انہوں نے مائیکروفنانس کو الگ نظام کے بجائے وسیع تر مالیاتی نظام کا حصہ بنانے پر زور دیا۔

عامر خان کے مطابق آئندہ دہائی میں اس شعبے کی کامیابی کا جائزہ نئے پیمانوں سے لینا ہوگا۔

یہ بھی دیکھا جائے کہ صارفین اپنے کاروبار بڑھا رہے ہیں یا نہیں۔ اثاثوں کی تشکیل اور مالی خودمختاری بھی اہم نتائج ہیں۔

دوسرے روز پاکستان میں یورپی یونین تعاون کے سربراہ جیروین ویلمز نے ورچوئل خطاب کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے سندھ کی ترقی کے لیے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا مالیاتی مصنوعات بہتر بنانے پر زور

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مالی شمولیت کو صرف رسائی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

ان کے مطابق مالیاتی مصنوعات صارفین کی آمدن، موسمیاتی حالات اور خطرات کے مطابق تیار کی جائیں۔

انہوں نے غربت میں کمی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پر بھی زور دیا۔ اس مقصد کے لیے حکومت، مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کا تعاون ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ نے پائیدار انوویشن لیبز کے اجرا کا خیرمقدم کیا۔ اس اقدام کے تحت مالیاتی ادارے اور دیہی کاروبار مل کر کام کریں گے۔

ان کا مقصد مالی سہولیات سے محروم علاقوں کی ضروریات کے مطابق مصنوعات تیار کرنا اور انہیں آزمانا ہے۔

فنانسنگ پروگرام 4 ارب 20 کروڑ روپے تک بڑھانے کا منصوبہ

کانفرنس کا اہم نتیجہ نیشنل کریڈٹ گارنٹی کمپنی لمیٹڈ (NCGCL) کے ساتھ مالی سہولت میں توسیع کا منصوبہ تھا۔

دوسرے مرحلے میں فنانسنگ کا حجم 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 4 ارب 20 کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے۔

پروگرام میں شریک مالیاتی اداروں کی تعداد بھی تین سے بڑھا کر آٹھ کی جائے گی۔

اس پروگرام کے تحت لاڑکانہ، بدین، ٹھٹھہ، سجاول اور تھرپارکر میں قرضوں تک رسائی بڑھائی جائے گی۔ مختص فنانسنگ کا 50 فیصد خواتین کے لیے ہوگا۔

NCGCL چھوٹے کاروباروں کے مالی خطرات میں شراکت داری کرے گی۔ کمپنی مائیکروفنانس اداروں کو کمرشل بینکوں سے قرض لینے کے لیے ضمانتیں بھی فراہم کرے گی۔

یورپی یونین کے تعاون سے UNIDO کے PAIDAR پروگرام کے ذریعے 20 لاکھ یورو کی گرانٹ فراہم کی جائے گی۔

یہ رقم مستحق افراد کی نشاندہی اور تکنیکی معاونت پر خرچ ہوگی۔ مارک اپ کی ادائیگی میں مدد بھی اس پروگرام کا حصہ ہے۔

قابل تجدید توانائی کے لیے ایک ارب روپے کی سہولت

پاکستان مائیکروفنانس انویسٹمنٹ کمپنی (PMIC) اور نیشنل رورل سپورٹ پروگرام (NRSP) نے معاہدے پر دستخط کیے۔

معاہدہ PRIME پروگرام کے تحت ایک ارب روپے کی فنانسنگ سہولت سے متعلق ہے۔ اس اقدام کا مقصد مائیکروفنانس کے ذریعے قابل تجدید توانائی کو فروغ دینا ہے۔

اس پروگرام میں PMIC اور جرمن ترقیاتی بینک KfW کا تعاون شامل ہے۔

خواتین کی مالی خودمختاری اور موسمیاتی خطرات

کانفرنس میں خواتین کی مالی رسائی، مصنوعی ذہانت اور اسلامی مائیکروفنانس پر سیشنز ہوئے۔

شرکا نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ضابطہ کاری اور لیکویڈیٹی پر بھی گفتگو کی۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور 2035 تک شعبے کے مستقبل کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے نئی مالیاتی سہولیات متعارف کرانے پر زور دیا۔ انہوں نے ان سہولیات کی پائیداری یقینی بنانے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔

کشف فاؤنڈیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر روشنہ ظفر نے شعبے کو درپیش دو اہم خطرات کی نشاندہی کی۔ ان میں مشن سے انحراف اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات شامل تھے۔

خواتین سے متعلق سیشنز میں مالی فیصلوں پر اختیار اور معاشی آزادی کو اہم قرار دیا گیا۔

شرکا نے کہا کہ مالی شمولیت کا جائزہ صرف کھاتوں یا قرضوں کی تعداد سے نہیں لینا چاہیے۔ سہولیات کے حقیقی استعمال اور صارفین کی زندگیوں پر اثرات کو بھی جانچنا ضروری ہے۔

مائیکروفنانس ایوارڈز 2026

کانفرنس میں پاکستان مائیکروفنانس ایوارڈز 2026 بھی تقسیم کیے گئے۔ نمایاں اداروں اور شخصیات کی خدمات کو سراہا گیا۔

ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کو بہترین مائیکروفنانس بینک کا ایوارڈ دیا گیا۔

نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کو نان بینکنگ مائیکروفنانس کمپنی کی کیٹیگری میں اعزاز ملا۔

اخوت کے بانی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو بھی سراہا گیا۔ انہیں بلاسود مالیاتی شمولیت کے ماڈل کو متعارف کرانے اور فروغ دینے پر اعزاز دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!