سفاری پارک میں بیمار ہتھنی مدھوبالا کا غیر ملکی ماہرین نے طبی معائنہ کیا۔
فورپاز کے ڈاکٹر عامر خلیل کی سربراہی میں ٹیم نے خون کے نمونے حاصل کیے۔ ان نمونوں کی جانچ جاری ہے۔
ماہرین نے ہتھنی کے علاج اور خصوصی نگہداشت کا بھی جائزہ لیا۔
ڈاکٹر عامر خلیل کے مطابق مدھوبالا گزشتہ سال سے مختلف بیماریوں کا شکار ہے۔ مسلسل علالت نے اس کی جسمانی صحت اور مدافعتی نظام کو متاثر کیا ہے۔
تپِ دق سے صحت یابی کے بعد بھی مسائل
ڈاکٹر عامر خلیل نے بتایا کہ مدھوبالا اب تپِ دق (ٹی بی) سے پاک ہے۔ تاہم بیماری کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔
ہتھنی کی پچھلی ٹانگوں میں کمزوری اور سوجن ہے۔ اس کے ناخنوں میں دراڑیں بھی پڑ گئی ہیں۔
ان مسائل سے اس کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔ پچھلی ٹانگوں میں کمزوری کے باعث اسے خود کھڑے ہونے میں دشواری ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عامر خلیل کے مطابق گرنے کی صورت میں اسے اٹھانے کے لیے کرین کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
وزن میں کمی، صحت یابی میں وقت لگنے کا امکان
ڈاکٹر عامر خلیل نے بتایا کہ مدھوبالا کا وزن مسلسل کم ہورہا ہے۔ تاہم اس میں بیکٹیریل انفیکشن موجود نہیں۔
ان کے مطابق مکمل صحت یابی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ہتھنی کی صحت میں بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں۔
غذائیت اور فزیوتھراپی پر خصوصی توجہ
ماہرین کے مطابق صرف ادویات مدھوبالا کے علاج کے لیے کافی نہیں۔ اسے متوازن غذا اور خصوصی نگہداشت کی بھی ضرورت ہے۔
ہتھنی کو ملٹی وٹامنز، معدنیات اور غذائی سپلیمنٹس فراہم کیے جائیں گے۔ جگر کی صحت بہتر بنانے کے لیے بھی خصوصی غذائی انتظامات کیے جائیں گے۔
ڈاکٹر عامر خلیل کے مطابق روزانہ پانی سے مساج اور فزیوتھراپی بھی کرائی جائے گی۔ تیراکی کو بھی علاج کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ ٹانگوں کی حرکت بہتر ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ ہاتھیوں کا علاج خصوصی مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔ انہیں انجکشن لگانے سمیت طبی اقدامات میں بھی احتیاط درکار ہوتی ہے۔
پاکستانی اور غیر ملکی ماہرین کی مشترکہ کوششیں
ڈاکٹر عامر خلیل نے کہا کہ مدھوبالا کو مسلسل نگرانی اور خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہے۔
پاکستانی اور غیر ملکی ماہرین مشترکہ طور پر اس کی حالت بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کے مطابق مناسب علاج اور دیکھ بھال سے صحت میں مزید بہتری کی امید ہے۔