میر رضا کیس جبران ناصر کا قاتلوں کو تحفظ دینے کا الزام

میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ کمیشن میں سامنے آنے والی معلومات سے اہلخانہ نے پولیس پر کوئی بہتان نہیں لگایا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ میر رضا کے قاتلوں پر اب تک پردہ ڈالا جا رہا ہے۔

جبران ناصر نے سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمیشن کی کارروائی پر بھی بات کی۔

کمیشن میں پولیس افسران کے بیانات

جبران ناصر کے مطابق کمیشن میں تفتیشی افسر سراج لاشاری اور سی پی ایل کے افسر کاشف کا بیان ریکارڈ ہونا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سینئر پولیس افسران سے بھی سوالنامے کے ذریعے جواب طلب کیے جائیں گے۔

جبران ناصر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کمیشن کی مدت میں توسیع کی سمری منظور کرلی ہے۔

ان کے مطابق سندھ کابینہ یکم اکتوبر کو کمیشن کی توسیع پر فیصلہ کرے گی۔

سینئر افسران کی پیشی کا مطالبہ

جبران ناصر نے کہا کہ سینئر پولیس افسران کو کمیشن کے سامنے پیش ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق افسران سے متعلق سوالات کے جوابات طلب کیے جائیں گے۔ نامکمل جواب کی صورت میں مزید سوالات اٹھائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن نے بھی شفافیت پر زور دیا ہے۔

جبران ناصر کے مطابق متعلقہ افسران کی کمیشن کے سامنے پیشی سے معاملات مزید واضح ہوسکتے ہیں۔

تفتیش اور شواہد پر سوالات

جبران ناصر نے پولیس تفتیش میں شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق سوالات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ میر رضا کی لاش ملنے والی جگہ کے اطراف متعدد گلیاں ہیں۔

ان کے مطابق تفتیش میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تعداد اور محفوظ کی گئی فوٹیج سے متعلق سوالات موجود ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تفتیش میں بعض اہم پہلوؤں پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔

میڈیکل بورڈ پر بھی سوالات

جبران ناصر نے سپر میڈیکل بورڈ کی تشکیل سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کو موت کی وجوہات سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہیے۔

ان کے مطابق ڈاکٹر سمیہ سمیت متعلقہ ڈاکٹروں کے بیانات بھی مکمل طور پر دیکھے جانے چاہئیں۔

انہوں نے ڈاکٹر اسامہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے مزید وضاحت کا مطالبہ کیا۔

میر رضا کیس کی کمیشن کارروائی میں پوسٹ مارٹم اور طبی شواہد سے متعلق سوالات پہلے بھی زیر بحث آچکے ہیں۔

پولیس حکام سے متعلق سوالات

جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ پولیس چیف نے اہلخانہ سے ملاقات کے دوران وکیل کے انتخاب سے متعلق مشورے دیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس چیف کی اس معاملے میں ایسی مداخلت کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

جبران ناصر نے علی شاذ اور دیگر افراد سے متعلق بھی تحقیقات کے بعض پہلوؤں پر سوالات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ گھروں اور علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر اسامہ کے کردار کا ذکر

جبران ناصر نے ڈاکٹر اسامہ کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے خیال میں کراچی کے اچھے افسر ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر افسران نے بھی ڈاکٹر اسامہ کے کام کا اظہار کیا ہے۔

جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے کیس حل ہونے سے متعلق بیان کیوں دیا تھا۔

میر رضا کیس کی تحقیقات کے دوران جبران ناصر اس سے پہلے بھی شواہد اور تفتیشی طریقہ کار پر سوالات اٹھا چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!