ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ 6 ہفتے بعد کراچی کے نوجوان شاہراہِ فیصل پر اپنا صوبہ مانگنے نکلیں گے۔
فیڈرل بی ایریا میں یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر کراچی کے وسائل سے متعلق تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم ترقی کے بجائے وزیراعلیٰ ہاؤس میں چلی جاتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی کا سالانہ حصہ 664 ارب روپے بنتا ہے۔ ان کے بقول سندھ کے حکمران کراچی کو 100 ارب روپے بھی نہیں دیتے۔
نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی اب خیرات نہیں مانگے گا۔ ان کے مطابق شہر نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی صورت میں اپنا حق حاصل کرے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 سال سے کراچی کے وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور سندھ کے نوجوانوں کو ان کا حق دینے کا وقت آگیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کی۔ وہ اس سے قبل بھی سندھ میں انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی کی بات کرچکے ہیں۔
ان بیانات میں کراچی کے وسائل اور 664 ارب روپے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔