ٹرمپ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، اقوام متحدہ میں خطاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکی معیشت ترقی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکا پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے۔

انہوں نے اپنی امیگریشن پالیسی کا بھی دفاع کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں اب صرف مدعو افراد داخل ہوسکتے ہیں۔

ان کے مطابق اس پالیسی سے جرائم میں کمی آئی ہے۔ تاہم یہ دعویٰ ٹرمپ کی جانب سے بیان کیا گیا۔

ایران سے متعلق ٹرمپ کا مؤقف

ٹرمپ نے ایران کو اپنی تقریر میں خاص توجہ دی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات چاہتے تھے۔ ان کے مطابق ایران نے مذاکرات سے انکار کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اب انہیں ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے۔ ان کے بقول یہ فیصلہ ایران کے ساتھ معاہدے یا مزید فوجی کارروائی سے متعلق ہوگا۔

انہوں نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائی کا بھی دفاع کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس اقدام نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے میں مدد دی۔

کیوبا سے متعلق سخت مؤقف

ٹرمپ نے کیوبا کی حکومت پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کیوبا کو ناکام ریاست قرار دیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ کیوبا میں تبدیلی آئے گی۔ ان کے مطابق ان کی حکومت کمیونسٹ نظام پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔

ٹرمپ نے کیوبا کے بعض گروہوں سے روابط کے الزامات بھی عائد کیے۔ ان دعووں میں کمیونسٹ پارٹی یو ایس اے اور دیگر گروہوں کا ذکر شامل تھا۔

وینزویلا اور تیل کا معاملہ

ٹرمپ نے وینزویلا سے متعلق امریکی پالیسی کا بھی دفاع کیا۔ انہوں نے ملک کے تیل کے ذخائر کا ذکر کیا۔

امریکی صدر کے مطابق وینزویلا کا اضافی تیل امریکی ریفائنریوں میں پہنچایا جائے گا۔ ان کے مطابق اس سے امریکی توانائی کی فراہمی بڑھ سکتی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اس اقدام سے ایندھن کی قیمتوں میں کمی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

مغربی نصف کرۂ ارض میں فوجی طاقت کا ذکر

ٹرمپ نے مغربی نصف کرۂ ارض میں امریکی مفادات پر بھی بات کی۔ انہوں نے ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت استعمال کرنے کا عندیہ دیا۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ’’بے مثال فوجی طاقت‘‘ استعمال کرنے کی بات کی۔

ٹرمپ کی تقریر میں ایران کا تنازع نمایاں رہا۔ انہوں نے مستقبل میں سفارتی حل کا امکان بھی ظاہر کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!