دہلی گورنمنٹ بوائز اسکول مسلسل چوتھے روز بند رہنے کے خلاف طلباء، والدین اور اساتذہ اسکول کے باہر جمع ہوگئے۔ طلباء نے سڑک بند کرکے احتجاج کیا اور اسکول کے باہر اسمبلی بھی منعقد کی۔
دہلی گورنمنٹ گرلز اسکول ایک روز کی بندش کے بعد منگل کو دوبارہ کھل گیا تھا۔ تاہم، دہلی گورنمنٹ بوائز اسکول میں چار روز تک تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں۔ اس صورتحال کے باعث تقریباً 800 طلباء تعلیم سے محروم رہے۔
اساتذہ کے مطابق اسکول کا مقررہ وقت صبح ساڑھے 7 بجے ہے۔ تاہم، پرنسپل علی خان میر جت صبح 9 بجے تک اسکول نہیں پہنچے۔ اساتذہ طلباء کے ساتھ صبح ساڑھے 7 بجے سے اسکول کے باہر موجود رہے۔
اس دوران ایک خاتون استاد نے اسکول کے باہر طلباء کی حاضری بھی لی۔ طلباء نے سڑک پر بیٹھ کر تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کی۔ ایک والدہ نے ’’ہمارا اسکول واپس کرو‘‘ کے نعرے لگائے، جس کا طلباء نے بھی جواب دیا۔
صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب مشتعل طلباء نے دہلی گورنمنٹ بوائز اسکول کا تالا توڑ دیا۔ طلباء اسکول کی حدود میں داخل ہوگئے اور وہاں ہنگامہ آرائی کی۔
طلباء نے راہداری میں رکھی الماریاں توڑ دیں۔ بعض کلاس رومز کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
بعد ازاں پرنسپل علی خان میر جت اسکول پہنچے اور اساتذہ کے ہمراہ عمارت میں داخل ہوگئے۔ اس کے بعد تقریباً چار روز کے تعطل کے بعد اسکول میں دوبارہ تدریسی عمل شروع ہوگیا۔
اس واقعے کے نتیجے میں طلباء کی تعلیم متاثر ہوئی۔ والدین اور اساتذہ نے اسکول کے معاملات فوری طور پر حل کرنے اور تعلیمی سرگرمیوں کو معمول کے مطابق جاری رکھنے پر زور دیا۔