وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی نام سے صوبے کی تقسیم قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی وحدت ان کے لیے وزارت، اسمبلی رکنیت اور سیاست سے زیادہ اہم ہے۔
سندھ کی تقسیم پر واضح مؤقف
سندھ اسمبلی میں تحریک التواء پر بحث کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ گزشتہ چند روز کی کارروائی سندھ کی تاریخ کے اہم دنوں میں شامل ہے۔ ماضی میں بھی سندھ کی تقسیم سے متعلق آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے ایسے معاملات پر ہمیشہ آئینی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کی بحث وفاقی وزیر داخلہ کے بیان کے بعد شروع ہوئی۔
سعید غنی نے کہا کہ اس کے بعد ایم کیو ایم کی قیادت نے پریس کانفرنسیں اور سیمینار کیے۔ جامعات میں بھی اس معاملے پر بحث ہوئی۔
انہوں نے ایم کیو ایم کے موجودہ مؤقف کو خوش آئند قرار دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی قیادت ماضی میں نئے صوبوں کی بات کرتی رہی ہے۔
انتظامی یونٹس کے نام پر بھی اعتراض
صوبائی وزیر نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے نام پر بھی سندھ میں نئے صوبوں کی بات کی جا رہی ہے۔ اگر مقصد بہتر انتظامیہ ہے تو موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق سندھ اسمبلی کو اس معاملے پر واضح فیصلہ دینا چاہیے۔ نئے صوبے کے قیام یا عدم قیام کا فیصلہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کا آئینی اختیار ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ سندھ کے عوام اس معاملے پر واضح رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی حمایت عوام کی اکثریت نہیں کرتی۔
کراچی سب شہریوں کا شہر ہے
سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں مختلف قومیتوں کے لوگ آباد ہیں۔ پٹھان، پنجابی، سرائیکی، کشمیری، بلوچ، سندھی اور اردو بولنے والے سب شہر کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پر کسی ایک طبقے کا حق قرار دینا درست نہیں۔ شہر میں آباد تمام برادریوں کو برابر نمائندگی اور حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ سندھی بولنے والے تقسیم کے مخالف ہیں جبکہ اردو بولنے والے نئے انتظامی یونٹس کے حامی ہیں۔
سیاسی جماعتیں ووٹ سے مؤقف ثابت کریں
سعید غنی نے کہا کہ صرف بیانات دینا کافی نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو سندھ کی تقسیم کے معاملے پر اسمبلی میں ووٹ کے ذریعے اپنا مؤقف ثابت کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر سندھ میں نیا صوبہ نہ بنانے کی قرارداد آتی ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کو اس کے حق میں ووٹ دینا چاہیے۔
ان کے مطابق عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون سی جماعت سندھ میں نئے صوبے کی مخالفت کرتی ہے۔ اسی طرح نئے صوبے کی حمایت کرنے والی جماعتوں کا مؤقف بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے۔
سعید غنی نے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنا واضح مؤقف پیش کریں۔
نفرت اور تقسیم کی سیاست سے گریز پر زور
صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ اور کراچی پہلے ہی نفرت اور تقسیم کی سیاست سے بہت نقصان اٹھا چکے ہیں۔ لسانی اور نسلی کشیدگی کے باعث ماضی میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رہنماؤں کے بیانات کے براہِ راست اثرات عوام پر پڑتے ہیں۔
سعید غنی نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے نعرے لسانی اور قومیتی نفرت کو ہوا دے سکتے ہیں۔ اگر دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے موجودہ علاقائی صورتحال کا حوالہ بھی دیا۔ سعید غنی نے کہا کہ افغانستان، بھارت اور ایران کی سرحدوں پر حالات کو دیکھتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کو محتاط رہنا چاہیے۔
سندھ اسمبلی سے واضح پیغام کا مطالبہ
سعید غنی نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا معاملہ معمولی نہیں۔ اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیواروں پر کسی شہر کو الگ صوبہ بنانے کے نعرے لکھنا بھی سنجیدہ معاملہ ہے۔ ایسے اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے مطابق سندھ کے عوام سے پوچھے بغیر صوبے کی تقسیم کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ اسمبلی کو اس معاملے پر واضح پیغام دینا چاہیے۔
سعید غنی نے کہا کہ سندھ کے عوام نئے صوبے کے معاملے پر حساس ہیں۔ سیاسی نمائندوں کو عوام کے جذبات اور احساسات کو سمجھنا ہوگا۔
’’سندھ کی تقسیم قبول نہیں کریں گے‘‘
وزیر محنت سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مختلف قومیتوں کو سیاسی نمائندگی دی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی میں ہر رنگ، نسل اور قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اور کراچی کو مزید نفرت اور تقسیم کی سیاست کی ضرورت نہیں۔ مختلف قومیتوں کو امن اور بھائی چارے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
سعید غنی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ کی وحدت ان کے لیے ہر سیاسی عہدے سے زیادہ اہم ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر سندھ کی تقسیم کی بات ہوگی تو وزارت، اسمبلی کی رکنیت اور سیاست کو لات مار دیں گے، لیکن سندھ کی تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
