شدید گرمی اور خشک سالی کے باعث دریائے ڈینیوب کی سطح تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے دوسری جنگِ عظیم کے ڈوبے جنگی جہاز نمایاں ہوگئے۔
یورپ کی گرمی اور شدید خشک سالی نے دریائے ڈینیوب کی سطح خطرناک حد تک کم کر دی ہے۔ پانی کی کمی کے باعث نازی دور کے ڈوبے جنگی جہاز بھی دوبارہ نظر آنے لگے ہیں۔
شدید گرمی کے باعث دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح تاریخی کم ترین سطح تک پہنچ گئی۔ اس صورتحال نے خطے میں توانائی کے بحران کو بھی مزید سنگین کر دیا ہے۔
دریا میں پانی کم ہونے سے دوسری جنگِ عظیم کے دوران ڈبوئے گئے کئی جنگی جہاز نمایاں ہوگئے۔ یہ جہاز ہٹلر کی بحریہ سے تعلق رکھتے تھے اور سوویت افواج کی پیش قدمی روکنے کے لیے دریائے ڈینیوب میں ڈبوئے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ان جہازوں میں دھماکا خیز مواد بھی موجود ہے۔ اسی وجہ سے انہیں دریا سے نکالنا خطرناک اور مشکل سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پانی کی مسلسل کمی نہ صرف تاریخی آثار کو نمایاں کر رہی ہے بلکہ خطے کی توانائی اور آبی نظام کے لیے بھی نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔