صحافیوں کا تحفظ کراچی یونین آف جرنلسٹس کی سماء ٹی وی کے کیمرہ مین پر مبینہ تشدد کی مذمت

صحافیوں کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) نے سماء ٹی وی کے کیمرہ مین امتیاز پر مبینہ تشدد کی مذمت کی۔ تنظیم نے حبسِ بے جا اور دھمکیوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔

صدر کے یو جے طاہر حسن خان، جنرل سیکرٹری سردار لیاقت کشمیری اور مجلسِ عاملہ کے اراکین نے مشترکہ بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو کوریج سے روکنا ناقابل قبول ہے۔

کیمرہ مین کا مؤقف

کے یو جے کے مطابق کیمرہ مین فائرنگ کے ایک واقعے کی کوریج کر رہے تھے۔ اسی دوران مبینہ طور پر چند افراد نے انہیں روک لیا۔

تنظیم کے مطابق ان پر مکے اور تھپڑ مارے گئے۔ ان کا کیمرہ بھی چھین لیا گیا۔ بعد میں کیمرہ توڑ دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ انہیں تقریباً آدھے گھنٹے تک ایک کمرے میں رکھا گیا۔ بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔

کے یو جے نے دعویٰ کیا کہ کیمرہ مین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ان کی تصویر مختلف گروپس میں بھی شیئر کی گئی۔

تحقیقات کا مطالبہ

کراچی یونین آف جرنلسٹس نے حکومت سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے بھی کارروائی کی اپیل کی۔

کے یو جے نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جائے۔ دیگر شواہد بھی جمع کیے جائیں۔ ملوث افراد کی شناخت کرکے مقدمہ درج کیا جائے۔

تنظیم نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ کیمرہ مین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

ایم کیو ایم پاکستان سے اپیل

کے یو جے نے ایم کیو ایم پاکستان کی مرکزی قیادت سے بھی مطالبہ کیا۔ تنظیم نے کہا کہ واقعے کی واضح مذمت کی جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کارکن ملوث پائے جائیں تو ان کے خلاف تنظیمی کارروائی کی جائے۔ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام بھی یقینی بنائی جائے۔

احتجاج کی وارننگ

کراچی یونین آف جرنلسٹس نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر فوری کارروائی نہ ہوئی تو صحافی برادری احتجاج کرے گی۔ وہ دیگر آئینی اور قانونی راستے بھی اختیار کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!