ریسکیو 1122 سندھ میں ایمرجنسی سروسز کا نظام مزید مؤثر بنانے کی ہدایت

ریسکیو 1122 کے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا مشیر وزیراعلیٰ سندھ برائے محکمہ بحالی گیانچند ایسرانی نے اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے ایمرجنسی نظام اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔

گیانچند ایسرانی نے کنٹرول روم میں ایمرجنسی کالز سنیں۔ انہوں نے کالز کا ریکارڈ دیکھا اور فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی صورتحال میں ہر لمحہ اہم ہوتا ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو فوری ردعمل یقینی بنانا ہوگا۔

ڈائریکٹر آپریشنز ریسکیو 1122 عابد شیخ نے ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔ انہوں نے جدید رسپانس سسٹم اور صوبے بھر میں جاری خدمات سے آگاہ کیا۔

مشیر وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کنٹرول روم کو روزانہ 28 سے 30 ہزار کالز موصول ہوتی ہیں۔ ان میں سے 900 سے 1000 واقعات پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہفتہ وار دو لاکھ سے زائد کالز موصول ہوتی ہیں۔ ریسکیو سروس ہزاروں شہریوں کو بروقت مدد فراہم کرتی ہے۔

گیانچند ایسرانی نے کہا کہ صوبے میں 224 جدید ایمبولینسز کام کر رہی ہیں۔ مرکزی کنٹرول روم ان کی نگرانی کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 فائر فائٹنگ، واٹر ریسکیو، اربن سرچ اینڈ ریسکیو اور طبی امداد کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب، آگ، عمارت گرنے یا دیگر حادثات میں تربیت یافتہ ٹیمیں فوری پہنچتی ہیں۔

مشیر وزیراعلیٰ سندھ نے جینڈر بیسڈ وائلنس ڈیسک کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ گھریلو تشدد، بچوں سے زیادتی اور خواتین کے خلاف تشدد کے کیسز دیکھتا ہے۔

گیانچند ایسرانی نے ریسکیو 1122 کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شہریوں کو بروقت امداد کی فراہمی پر زور دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!