دو قومی نظریہ: ڈاکٹر انیس احمد کا آئی ایس پی آر سمر کیمپ میں طلبہ سے پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل پر خطاب

دو قومی نظریہ کے موضوع پر رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر انیس احمد نے آئی ایس پی آر کے زیرِ اہتمام سمر کیمپ 2026 میں ملک بھر کے 18 سے زائد اسٹیشنز پر چار ہزار سے زیادہ طلبہ و طالبات سے خطاب کیا۔

ڈاکٹر انیس احمد نے اپنی گفتگو میں ’’پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل‘‘ اور دو قومی نظریے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نظریۂ پاکستان وہ فکری بنیاد ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو الگ قومی شناخت، سیاسی شعور اور آزاد وطن کے حصول کے لیے متحد کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین تمام مذہبی اقلیتوں کو مذہبی آزادی، سماجی تحفظ اور قانونی حقوق فراہم کرتا ہے، جو ریاست کے آئینی اور جمہوری اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر انیس احمد نے بھارت کی اقلیتوں سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں نے بھارت کے سیکولر تشخص پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال دو قومی نظریے کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

مسئلہ کشمیر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح، اصولی اور مستقل رہا ہے اور اس مسئلے کا حل بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کریں، تحقیق کو اپنی علمی بنیاد بنائیں اور مختلف مستند ذرائع سے حقائق جاننے کے بعد اپنی رائے قائم کریں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر انیس احمد نے کہا کہ نوجوان مستقبل کے معمار ہیں، اس لیے انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لانا چاہیے تاکہ وہ پاکستان کے روشن مستقبل کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!