ای وی بسیں متعارف کرانے کے منصوبے کے تحت سندھ حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل پر خصوصی ایکسکلیوسو بس روٹس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کراچی میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کے اجلاس میں جاری اور مجوزہ ٹرانسپورٹ منصوبوں، آپریشنل امور اور مستقبل کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ٹرانس کراچی کے سی ای او زبیر چنہ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈبل ڈیکر بسوں، ای وی ٹیکسیز، ای وی بسوں، پیپلز بس سروس، گرین لائن اور اورنج لائن کے آپریشنز پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت خصوصی بس روٹس متعارف کرانا چاہتی ہے، جہاں مختلف روٹس نجی سرمایہ کار کمپنیوں اور افراد کو شفاف اور مسابقتی طریقہ کار کے ذریعے آپریشن کے لیے دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان روٹس پر جدید، ایئرکنڈیشنڈ الیکٹرک (ای وی) بسیں چلائی جائیں گی تاکہ شہریوں کو محفوظ، آرام دہ اور ماحول دوست سفری سہولت میسر آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے لاڑکانہ تا قمبر پیپلز بس سروس کا نیا روٹ بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس روٹ سے ہزاروں مسافروں کو بہتر سفری سہولت ملے گی جبکہ دونوں اضلاع کے درمیان تجارتی سرگرمیوں اور آمدورفت میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ منصوبے کے تمام انتظامی اور آپریشنل اقدامات جلد مکمل کیے جائیں۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی میں ماحول دوست ای وی ٹیکسی سروس کے آغاز کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے اور منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ شہری جلد جدید ای وی ٹیکسی سروس سے مستفید ہوں گے، جس سے نہ صرف معیاری سفری سہولت بہتر ہوگی بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مزید ڈبل ڈیکر بسیں جلد کراچی پہنچ جائیں گی اور ان کے نئے روٹس کی منصوبہ بندی بھی تیزی سے مکمل کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق گرین لائن بی آر ٹی کی یومیہ رائڈرشپ 50 ہزار سے بڑھ کر 81 ہزار جبکہ اورنج لائن کی 1,800 سے بڑھ کر 9,800 تک پہنچ چکی ہے، جو عوامی اعتماد کا مظہر ہے۔
شرجیل انعام میمن نے گرین لائن پر خواتین کے لیے مخصوص پنک بس سروس کی کامیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے اس منصوبے کو بھرپور پذیرائی دی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ پنک اسکوٹیز صرف خواتین استعمال کریں۔ اگر کوئی مرد پنک اسکوٹی چلاتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور اسکوٹی فوری تحویل میں لے لی جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ پنک اسکوٹی کا رنگ تبدیل کرنے یا ریپنگ کرنے والوں کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
آخر میں شرجیل انعام میمن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے اور تمام جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔