ساحلی پٹی: سجاول میں سمندری حفاظتی بند ٹوٹنے لگا، ساحلی آبادیوں پر خطرات منڈلانے لگے

ساحلی پٹی میں واقع سندھ کے ضلع سجاول میں سمندر ایک بار پھر ساحلی آبادیوں کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا سمندری حفاظتی بند مناسب دیکھ بھال اور بروقت مرمت نہ ہونے کے باعث مختلف مقامات سے ٹوٹنے لگا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق حفاظتی بند کے متاثر ہونے کے بعد سمندری پانی کئی دیہات میں داخل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ صورتحال کے باعث سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں زمین سمندر برد ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کھارا سمندری پانی زیرِ زمین میٹھے پانی کے ذخائر تک پہنچ رہا ہے، جس سے پینے کے صاف پانی کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر حفاظتی اقدامات فوری نہ کیے گئے تو مزید دیہات، زرعی زمینیں اور رہائشی علاقے خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔

متاثرہ مکینوں نے حکومت سندھ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ حفاظتی بند کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیرِ نو اور مرمت کی جائے تاکہ سمندری کٹاؤ کو روکا جا سکے اور ساحلی آبادیوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں کو موسمیاتی تبدیلیوں اور سمندری کٹاؤ کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، اس لیے مستقل اور مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!