سی این جی اسٹیشنز کی مسلسل بندش کے خلاف آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے پریس کانفرنس کی۔ ایسوسی ایشن نے سندھ بھر میں گیس کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔
چار ماہ سے گیس بند
ترجمان نے بتایا کہ 28 فروری سے 29 جون تک سندھ میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اس عرصے میں تمام اسٹیشنز بند رہے۔
روزگار متاثر
ایسوسی ایشن کے مطابق گیس بند ہونے سے ہزاروں ملازمین بے روزگار ہو گئے۔ مکینک، ڈرائیور اور دیگر کارکن بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس شعبے سے وابستہ خاندان شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
گیس کے استعمال کا مؤقف
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سی این جی سیکٹر روزانہ صرف 1.5 ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ مجموعی گیس نیٹ ورک کا صرف 0.1 فیصد بنتا ہے۔ اس کے باوجود اس شعبے کو بند رکھا گیا۔
حکومت سے مطالبات
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے تمام سی این جی اسٹیشنز کو فوری گیس فراہم کی جائے۔ ترجمان نے کہا کہ سی این جی ماحول دوست اور نسبتاً سستا ایندھن ہے۔ اس لیے اس کی فراہمی بحال کی جانی چاہیے۔
احتجاج کی وارننگ
ایسوسی ایشن نے حکومت سے روزگار کے تحفظ کے لیے متبادل پالیسی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو تنظیم احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔