...

سیدنا عمر فاروقؓ: پاکستان سنی تحریک کی کانفرنس، عدل و انصاف کے نظام کو مشعلِ راہ قرار دیا گیا

کراچی: پاکستان سنی تحریک کے زیرِ اہتمام سیدنا عمر فاروقؓ کانفرنس منعقد ہوئی۔ مقررین نے کہا کہ آپؓ کی زندگی امتِ مسلمہ کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر فاروقؓ کا دورِ خلافت عدل، شجاعت اور دیانت داری کا روشن باب ہے۔

عدل و انصاف کی مثال

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سنی تحریک کے نائب سربراہ محمد شاہد غوری نے کہا کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے مثالی نظامِ انصاف قائم کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو مساوی حقوق حاصل تھے۔

ان کے مطابق خلیفۂ وقت بھی قانون کے تابع ہوتا تھا۔

ایک عام شہری بھی اپنا حق مانگ سکتا تھا۔

حق اور باطل میں فرق

علامہ اشرف گورمانی نے کہا کہ سیدنا عمر فاروقؓ کو ’’فاروق‘‘ کا لقب عطا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ آپؓ حق اور باطل میں واضح فرق کرنے والے تھے۔

قبولِ اسلام کے بعد آپؓ نے کھلے عام اسلام کا اعلان کیا۔

آپؓ کی جرات نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے۔

اسلامی ریاست کی توسیع

علامہ ڈاکٹر عبد الوہاب اکرم قادری نے کہا کہ آپؓ کے دور میں اسلامی ریاست نے بڑی فتوحات حاصل کیں۔

عراق، شام، مصر، بیت المقدس اور فارس اسلامی ریاست کا حصہ بنے۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط قیادت نے اسلامی سلطنت کو عالمی قوت بنایا۔

انتظامی اصلاحات

مقررین نے کہا کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے اہم انتظامی اصلاحات متعارف کرائیں۔

بیت المال اور عدالتی نظام کو مضبوط بنایا گیا۔

پولیس، مردم شماری اور نہری نظام بھی قائم کیا گیا۔

فوجی چھاؤنیاں اور انتظامی تقسیم بھی اسی دور کے نمایاں اقدامات تھے۔

آج کے لیے رہنمائی

رہنماؤں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو فاروقِ اعظمؓ کے اصول اپنانے چاہییں۔

انہوں نے عدل، دیانت داری اور خدمتِ خلق پر زور دیا۔

ان کے مطابق ان تعلیمات سے معاشرتی برائیاں کم ہو سکتی ہیں۔

عوام سے اپیل

کانفرنس کے اختتام پر عوام سے سیرتِ فاروقؓ کے مطالعے کی اپیل کی گئی۔

مقررین نے کہا کہ تقویٰ، انصاف اور دیانت داری کو زندگی کا حصہ بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.